خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 833
خطبات طاہر جلد ۱۰ 833 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء لیکن اس کے علاوہ ایک اور خطرناک رویہ ہے مغربی طرز زندگی کی تہذیب و تمدن کی تمام برائیاں بڑی تیزی کے ساتھ ان علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی سے مراد یہ ہے کہ جو چاہو جس طرح چاہو بد کاریاں کرو اور عیش و عشرت میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑ جاؤ۔پس Crime یعنی جرم کے رجحانات گزشتہ ایک سال کے اندراندراس تیزی سے بڑھے ہیں کہ روس سے آنے والے بتاتے ہیں کہ بعض علاقے پہچانے نہیں جاتے وہاں کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ اس طرح گلیاں بے امن ہو جائیں گی لیکن اب یہی صورت حال ہے۔ہمارے راویل صاحب نے بھی جو آکر ماسکو میں تبدیلیوں کے واقعات سنائے ہیں وہ بہت ہی سخت پریشان کن ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ان چیزوں کے ساتھ عیسائیت کا چولی دامن کا ساتھ بن گیا ہے۔یعنی ہاتھ میں ہاتھ پکڑے عیسائیت اور بدکاریاں اکٹھی ان گلیوں میں پھر رہی ہیں اور ایک دوسرے سے کوئی منافرت نہیں ہے اور یہ جو آزادی عیسائیت دیتی ہے یہ عیسائیت میں ایک مزید کشش پیدا کرنے والی بات بن گئی ہے۔وہ کہتے ہیں اپنے نام عیسائی رکھ لو چرچ چلے جایا کرو اس کے علاوہ جو چاہو عیش و عشرت کرو جس قسم کی زندگی بسر کرو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم بخشے گئے۔یہ جو ڈھیل ہے اس ڈھیل نے عیسائیت میں ایک اور زائد کشش پیدا کر دی ہے۔اس کے مقابل پر جب اسلام اپنی اصل شکل وصورت میں پہنچتا ہے تو ان کو بالکل مختلف طرز زندگی کی طرف بلاتا ہے۔پابندیاں عائد کرتا ہے تم یہ بھی نہ کرو، وہ بھی نہ کرو اور اپنے جذبات کے اوپر بھی کنٹرول رکھو، اپنے خیالات پر بھی کنٹرول رکھو، اپنے روز مرہ کے رہن سہن میں نمایاں پاک تبدیلیاں پیدا کرو۔شروع شروع میں تو بڑا ہی اکتا دینے والا منظر نظر آتا ہے جسے بوریت کہا جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں یہ کیا تماشہ بن گیا ہے۔کس قسم کے لوگ ہمارے پاس آگئے ہیں۔ہم تو آزادی کی طرف جارہے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ نہ کرو وہ نہ کرو اور یہ کرو غرضیکہ جو جد و جہد ہے جسے انگریزی میں کہتے ہیں Unequal Fight غیر متوازن جنگ ہے اور بظاہر ہر فوقیت عیسائیت کو حاصل ہے اور بظاہر نقصان کا پہلو اسلام کی طرف ہے لیکن اس کے باوجود میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسلام کے اندر ایک اندرونی طاقت ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے تعلق کی طاقت ہے وہ سچائی کی طاقت ہے یہ لازماً غالب آجائے گی اگر متقی لوگ اسلام کا پیغام لے کر وہاں پہنچیں