خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 826 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 826

خطبات طاہر جلد ۱۰ 826 خطبه جمعه ۱۸ را کتوبر ۱۹۹۱ء وہ کا سہارا لے کر نئی سیاسی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے ہوئے بڑے زور کے ساتھ دوبارہ تمام دنیا پر اور خصوصیت سے اسلام پر حملہ آور ہوتی ہے اور اس کے حقیقی دفاع کے لئے احمدیت کے سواکسی میں صلاحیت نہیں ہے اور کسی کو ان باتوں کا دماغ نہیں ہے۔ کسی کی زندگی کا اعلیٰ مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ خالصہ اسلام کا دفاع کرے اور حقیقت میں اسلام کا دفاع کرے نہ کہ کسی سیاسی غرض کا۔ پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اپنی تمام تر قوتوں کو مجتمع کر کے نئے عزم کے ساتھ اس جہاد کے میدان میں کو کو ۔ کو دنا چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ایسا کر رہی ہے۔ جہاں تک مقابل پر ہر قسم کا لڑیچر تیار کرنے کا تعلق ہے، جہاں تک ہماری موجودہ صلاحیتوں سے کام لے کر ان کے نتیجہ میں مقابل پر منصوبے بنانے کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کام جاری ہے لیکن اس و اس وقت ضرورت ہے لام بندی کی اور اسی طرف میں کچھ عرصہ سے آپ کو متوجہ کرتا رہا ہوں ۔ بعض دفعہ دنیا کے عام امن کے حالات میں فوجوں کی تعداد بڑھانے کے لئے ایسی کوئی ضرورت نہیں ہوا کرتی ۔ اگر چہ فوجی نظام ضرور موجود رہتا ہے ، ہتھیار بھی بنتے ہیں اور ہتھیار بنانے والے محکمے مسلسل بیدار مغزی کے ساتھ بہتر سے بہتر ہتھیار فوج کے لئے مہیا کرنے کے لئے کوشاں بھی رہتے ہیں لیکن جب جنگ کا بگل بجایا جائے تو اس وقت صورت حال یکسر بدل جاتی ہے اور انہی کوششوں میں جو پہلے سے ہی جاری ہیں نئی جان پڑ جاتی ہے، غیر معمولی حرکت اس میں پیدا ہو جاتی ہے اور کام میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ پس ایسے اوقات جبکہ کثرت کے ساتھ لوگوں کو بھرتی کے لئے بلایا جائے تو اسے کہا جاتا ہے کہ لام بندی ہوگئی ۔ لام بندی کا حکم ہو گیا اور لوگوں کو عوام الناس کو بار بار دعوت دی جاتی ہے کہ آؤ اور اس فوج میں شامل ہو۔ مجھے یاد ہے ہندوستان میں جب جنگ عظیم کا وقت تھا تو کثرت کے ساتھ حکومت کی طرف سے ایسے محکمے قائم کر دیئے گئے جو دیہات میں جا کر اندرون ملک دور دور جاکر لوگوں کو اکٹھا کر کے فوج کے لئے بھرتی کرنے کے لئے لایا کرتے تھے۔ دیہات سے قافلہ در قافلہ ایسے لوگوں کو اکٹھا کر کے ان مقامات پر پہنچایا جاتا تھا جہاں ان کے معائنے ہوتے تھے اور ان کو فوج میں داخل کرنے کے لئے ابتدائی تحقیق کی جاتی تھی ان کی صلاحیتیں جانچی جاتی تھیں ۔ غرضیکہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں فوج کی جو کچھ ضروریات ہوتی ہیں اس کے مطابق ان کو جانچ پرکھا جاتا تھا اور اس زمانہ میں مجھے یاد ہے کہ فوج کے جانچنے اور پر کھنے کا معیار