خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 822 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 822

خطبات طاہر جلد ۱۰ 822 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء ذات جو ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ ہے اس کا چہرہ اس کی رضا ہے جو باقی ہے۔باقی ہر چیز مٹ جانے والی ہے۔اس ضمن میں اس سے پہلے چونکہ میں روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے اس مضمون کو یہاں بیان نہیں کروں گا چونکہ اس کا ضمناً اس مضمون کے ساتھ تعلق ہے جو میں اب بیان کرنا چاہتا ہوں اس لئے اس کا ذکر آ گیا۔بہر حال بات یہ ہے کہ ہر چیز جسے پیدا کیا گیا ہے اس کے اندراندرونی طور پر ایک زندگی اور موت کی جدوجہد جاری ہے اور دونوں قسم کی صلاحیتیں خدا تعالیٰ نے اسے ودیعت کر رکھی ہیں اس کے علاوہ بیرونی تعلقات میں بھی یہی نظام جاری ہے۔بعض چیزیں بعض دوسری چیزوں پر غلبہ پاتی ہیں اور بعض چیزیں بعض دوسری چیزوں سے مغلوب ہو جاتی ہیں اور اس میں بھی نیکی اور بدی میں کوئی تمیز نہیں کی گئی اور کوئی فرق نہیں کیا گیا بلکہ اس معاملہ میں بھی ایک حیرت انگیز عدل کا نظام جاری دکھائی دیتا ہے۔اگر خدا نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں نشو و نما کی طاقت رکھی ہے تو ابلیس کو بھی اس طاقت سے محروم نہیں کیا اور شیطان کو جو ہمیشہ کے لئے چھٹی دی گئی کہ اپنے لاؤلشکر کو جس طرح چاہو میرے بندوں پر چڑھالا ؤ لیکن میرے بندوں پر تمہیں غلبہ نصیب نہیں ہوگا اس میں بھی وہی نظام عدل جاری وساری دکھائی دے رہا ہے۔خدا نے نیکی کی صلاحیتیں جن بندوں کو عطا فرما ئیں ان کو یہ یقین دلایا کہ اگر تم ان صلاحیتوں کو استعمال کرو گے تو بدی کی طاقتیں تم پر غالب نہیں آسکیں گی لیکن بدی کو بھی ایسی طاقتیں عطا کیں کہ جہاں وہ کوئی کمزوری دیکھیں اپنے مد مقابل پر غلبہ پالیں یہ زندگی اور موت کا وہ نظام ہے جس کا مذاہب سے بھی گہرا تعلق ہے اور غیر مذہبی دنیا سے بھی ہر قسم کی انسانی دلچسپیوں کے دائرے پر اس مضمون کا اطلاق ہوتا ہے۔اس تمہید کے بعد اب میں اس مقصد کی طرف آتا ہوں جس کے متعلق میں آج آپ سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔آج کے اس دور میں مذہب کی جنگ ایک دفعہ پھر بڑی شدت کے ساتھ چل پڑی ہے۔اس سے پہلے جب تک روس اور امریکہ کا مقابلہ جاری تھا اس وقت تک اسلام کے خلاف مذاہب کی جنگ میں ایسی شدت نہیں تھی لیکن گلف Gulf کے واقعات کے بعد اور روس کے منہدم ہو جانے کے بعد عیسائی طاقتوں میں بڑی تیزی کے ساتھ عیسائیت کو غالب کرنے کا رجحان پھر زندہ ہو رہا ہے اس سے پہلے بھی عیسائیت ہمیشہ اسلام پر حملہ آور رہی ہے لیکن ان سیاسی واقعات کے