خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 817
خطبات طاہر جلد ۱۰ 817 خطبه جمعه ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۱ء وو اس نے کتنا اس کو دیا کیونکہ ماں باپ جو اپنے بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں ان ہی کی آمد پر ان کے سب گزارے ہیں سب اخراجات چل رہے ہوتے ہیں ، بچے بعض دفعہ اپنی آمد میں سے ان کو تحفہ دے دیتے ہیں اور ماں باپ بڑے پیار سے قبول کرتے ہیں تو تحفے کا مضمون تو کسی منطقی بحث کا محتاج نہیں ہے۔ یہ تو بالکل الگ الگ مضمر ضمون ہے اور اکثر چندے جو ہیں وہ پیش کرتے وقت تحفے کے مضمون کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور یہ سب سے بالا مضمون ہے لیکن تحفہ کے مضمون پر جب میں نے قرآ نے قرآن کریم کی رو سے غور کیا تو کہیں مجھے یہ دکھائی نہیں دیا کہ خدا کہتا ہے کہ مجھے تحفہ پیش کرو۔ ہاں نماز میں التحیات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ التحيات لله : تحفے اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ سب پاکیزہ تحفے اچھے تحفے اللہ کے لئے ہیں لیکن قرآن کریم میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ تحفے پیش کرو بلکہ ” قرض پیش کرو“ کا مضمون ملتا ہے حالانکہ تحفے کا مضمون قرآن کریم میں کئی آیات سے مستنبط ہوتا ہے تو اس پر یہ دلچسپ چیز مجھ پر روشن ہوئی کہ تجھے مانگ کر نہیں لئے جاتے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ہماری تربیت میں اس بات پر بہت زور دیا کرتے تھے کہ اگر تم نے کسی کو کوئی چیز لکھ کریا کہ کر منگوائی ہو اور وہ بعد میں یہ کہہ دے کہ جی ! میں نے پیسے نہیں لینے یہ تحفہ ہے تو ہر گز قبول نہیں کرنی یا وہ چیز واپس کر دو یا رقم ادا کرو اور میں نے اس نسخہ کو اخلاق کی حفاظت کے لئے بہت ہی مفید پایا ہے۔ ایک بہت عظیم الشان نسخہ ہے اب جب میں نے قرآن کریم کے اس مضمون پر غور کیا تو مجھے حضرت مصلح موعود کی یہ نصیحت بھی یاد آگئی اور یہ بات مجھ پر اور کھل گئی کہ تحفے مانگ کر نہیں لئے جاتے۔ تحفہ دینے والے کے دل میں اپنی محبت کے نتیجہ میں تحریک پیدا ہوتی ہے وہ از خود پیش کرتا ہے لیکن قرآن کریم نے چونکہ مذہبی جماعتوں کو قربانی کے گر سکھانے تھے۔ اور اقتصادی ترقی کے راز سمجھانے تھے، یہ دونوں باتیں اکٹھی ہیں اس لئے قرآن کریم نے جب مانگا ہے تو قرض مانگا ہے اور قرضہ حسنہ مانگا ہے۔ قرضہ حسنہ وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ہوتی ۔ سودی یا کسی قسم کی بڑھا کر دو لیکن جو قرضہ حسنہ وصول کرتا ہے اس کا اپنا حسن طبیعت ہے کہ واپسی پر جتنا چاہے بڑھادے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چندوں کے موضوع پر جو گفتگو فرمائی ہے وہ عظیم الشان ہے۔ بہت ہی حیرت انگیز مضمون ہے۔ اس میں خدا تعالیٰ زکوۃ کے متعلق بھی یہی بیان فرماتا ہے کہ جو تم دو گے وہ تمہارے روپے کو کم نہیں کرے گی بلکہ بڑھائے گی۔ فرمایا سود تمہارے پیسوں کو کم کرتا ہے، زکوۃ تمہارے پیسوں کو کم نہیں کرتی اور خدا ضامن ہے کہ