خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 816 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 816

خطبات طاہر جلد ۱۰ 816 خطبہ جمعہ اارا کتوبر ۱۹۹۱ء سے دوست شامل ہیں چونکہ وہ اپنا نام ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے اس لئے ان کو عمومی کھاتے میں ڈالا گیا ہے، یو کے کی جماعت میں نہیں ڈالا گیا مگر یو کے کا اس کے ساتھ تعلق ضرور ہے۔جاپان بھی اللہ کے فضل سے وعدوں کے لحاظ سے تقریباً ٹھیک ہے لیکن ابھی تناسب کے لحاظ سے پیچھے ہے۔باقی ممالک میں تو کوئی قابل ذکر ایسی نسبت نہیں ہے جس کے متعلق یہاں کچھ بیان کیا جائے۔بالعموم شکل یہ بنتی ہے کہ تین میں سے دو سال گزرے ہیں اور تین میں سے ایک وعدہ وصول ہوا ہے یعنی ایک تہائی وصول ہوا ہے جبکہ دو تہائی وصول ہونا چاہئے تھا۔مجھے اب یاد نہیں رہا ہوسکتا ہے میں نے مدت بڑھا کر ۵ سال تک کردی ہو کیونکہ مجھے یاد ہے کہ کراچی کے امیر صاحب نے یہ کہا تھا کہ اگر میں ۵ سال کی مدت کر دوں تو امید ہے انشاء اللہ چندے زیادہ بھی ملیں گے اور جماعتوں کو سہولیتیں بھی ملیں گی تو اگر ۵ سال کی مدت کر دی گئی تھی تو اس میں ایک اشکال یہ پیدا ہو جائے گا کہ جن جماعتوں نے تین سال کی نسبت سے وعدے کئے تھے ان کی ادائیگی ہم تین سال کے حساب سے شمار کریں گے یعنی ہونی چاہئے تھی۔اگر پانچ سال ہے تو پانچ سال کی نسبت سے وعدہ بھی تو بڑھنا چاہئے تھا اس لئے چونکہ پہلا وعدہ تین سال کی پیش نظر رکھ کر کیا گیا تھا۔اس لئے جب ان کی یاد دہانی کرائی جائے گی تو تین والی نسبت کو پیش نظر رکھ کر یاد کرایا جائے گا کہ آپ نے تین سال کے پیش نظر وعدہ کیا تھا۔دو سال گزرچکے ہیں دو تہائی آپ کی وصولی ہو جانی چاہئے تھی۔مگر بہر حال جنہوں نے ۵ سال کی نیت سے وعدہ لکھوایا ہے ان کے لحاظ سے ہوسکتا ہے ان کی رفتار قابل تسلی ہو۔اب یہ کوائف آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔عمومی نصیحتیں کر چکا ہوں۔خدا کے حضور جماعت کی معرفت جو روپیہ پیش کیا جاتا ہے اس پر ہمیشہ نگران رہیں یہ روپیہ ظاہری طور پر تو خدا کو نہیں پہنچتا کیونکہ خدا ہی ہے جو تمام کائنات کا مالک ہے اسے اس روپے کی ظاہری احتیاج نہیں ہے۔ہاں اس کے بتائے ہوئے نیک کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس روپے کو قرض قرار دیا ہے اور یہ اس کا احسان ہے میں کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ اسے قرض کیوں قرار دیا گیا؟ اس لئے کہ واقعہ آپ خدا کو تو روپیہ دے ہی نہیں سکتے اسی کا ادا کیا ہوا مال اسی کی سب کچھ عطا ہے اس کو ہم واپس کیسے کر سکتے ہیں اس لئے قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کو دوعنوانات کے تحت بیان فرمایا ہے ایک تحفہ تحفہ کے متعلق تو یہ مسلمہ بات ہے کہ تحفہ میں یہ بحث نہیں اٹھا کرتی کہ کس نے کس کو دیا تھا اور