خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد ۱۰ 810 خطبہ جمعہ ارا کتوبر ۱۹۹۱ء کے وقت اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔جو شخص اپنی روزمرہ کی گفتگو میں با ادب نہیں ہے اور زبان کا کرخت ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک اٹھتا ہے ایسے شخص کو اگر آپ مجلس عاملہ میں منتخب کر کے لائیں گے تو اس مجلس عاملہ کا تقدس باقی نہیں رہے گا اور اس کے نتیجے میں صدر یا امیر یا دوسرے عہد یداروں کے لئے بھی شرمندگی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور ساری جماعت کو بھی وہ فتنوں میں ملوث کر سکتا ہے۔امرائے جماعت کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ جائزہ لیں اگر ان کی عاملہ میں یا ان کے ماتحت جماعتوں کی عاملہ میں کوئی بد خلق لوگ داخل ہو گئے ہیں تو مجھے لکھیں تاکہ پیشتر اس سے کہ کوئی فتنہ پیدا ہو، وہ خود ابتلاء میں پڑیں یا دوسروں کو ابتلاء میں ڈالیں ان کو ان عہدوں سے سبکدوش کر دیا جائے۔اگر مجالس عامله با اخلاق، با ادب با تمیز افراد جماعت پر مشتمل ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسی مجالس کو فتنوں کا ڈر نہیں ہوا کرتا۔اب میں ایک اور مضمون کو مختصر بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے صد سالہ جو بلی کے تشکر کے طور پر ایک تحریک کی تھی جس کا ابتداء نام ”صد سالہ جو بلی فنڈ برائے افریقہ وانڈیا' رکھا گیا تھا۔یہ تحریک جولائی ۱۹۸۹ء میں ہوئی تھی۔اس پر بعض ممالک کی طرف سے مجھے توجہ دلائی گئی کہ آپ صرف افریقہ وانڈیا کیوں رکھتے ہیں؟ ضرورتمند اور پسماندہ لوگ جہاں بھی دنیا میں ہیں ان کے لئے اس تحریک کو عام کر دینا چاہئے اس لئے اس کا نام تبدیل کر دیا جائے۔وہ غالباً میرے مقصد کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے تھے۔یہ غرباء اور ضرورتمندوں کی امداد کے لئے نہیں تھی بلکہ ایسے علاقوں میں خصوصی توجہ کرنے کی خاطر تھی جہاں خدا کے فضل سے احمدیت کے نفوذ کے بہت روشن امکانات پیدا ہورہے تھے اور ظاہر ہو رہا تھا کہ تھوڑی سی توجہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے توقع سے بہت بڑھ کر نتائج ظاہر ہورہے ہیں۔اس پہلو سے یہ تحر یک اگر ہندوستان اور افریقہ کے لئے کی گئی تھی تو حکمت اس کے پیش نظر یہی تھی جو میں نے بیان کی ہے لیکن بعض لوگوں کے اصرار کے نتیجہ میں اس کا نام پھر تبدیل کر دیا گیا۔اب مجھے یاد نہیں کہ نیا نام کیا تجویز ہوا تھا لیکن اب اس تحریک کے اندر انشاء اللہ اسی حکمت کے پیش نظر U۔S۔S۔R کے علاقے بھی شامل ہو جائیں گے کیونکہ وہاں بھی بہت تھوڑی توجہ کے نتیجہ میں بہت زیادہ پھل لگ رہے ہیں اور اس کثرت کے ساتھ U۔S۔S۔R کے باشندے جماعت کے پیغام سے متاثر ہوتے اور لبیک کہتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں