خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 809
خطبات طاہر جلد ۱۰ 809 خطبہ جمعہ اارا کتوبر ۱۹۹۱ء ایسے دوست بھی ہیں جنہوں نے اکیلے پورے قرآن کریم کی اشاعت کا خرچ دیا اور بڑی خاموشی کے ساتھ ایک یورپین مشن کے لئے ایک ہی فرد واحد نے بہت بڑی رقم پیش کی ہے یعنی ایک لاکھ پاؤنڈ کے قریب اور اشارہ بھی یا کنایہ بھی اس بات کو انہوں نے کسی پر ظاہر نہیں کیا۔نہ مجھے کہا ہے اس کو ضبط تحریر میں لایا جائے اور میرا نام ظاہر کیا جائے تو بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کی ہر جماعت بڑے عظیم الشان مخلصین سے بنی ہوئی ہے اور ایسی جماعت نہیں ہے جسے جماعت کے طور پر نعوذ بالله من ذلك رد کیا جائے۔پس مالمو کی جماعت کو بھی اگر تکلیف پہنچی ہے تو لازماً پہنچنی تھی کیونکہ مجلس عاملہ ایک بہت بڑی نمائندہ حیثیت رکھتی ہے۔وہاں سالہا سال سے ایسی بے ہودہ باتیں ہورہی ہوں تو لاز ما ساری جماعت کے لئے سخت شرم کی بات ہے اور ایسا معاملہ ہے کہ انہیں استغفار کرنا چاہئے مگر بیرونی دنیا کی جماعتوں کو میں سمجھا رہا ہوں کہ وہ نعـوذ بــالــلــه من ذالك اسے جماعت مالمو کے لئے طعن و تشنیع کا موجب نہ بنائیں۔اگر ان کے رشتے دار وہاں ہیں تعلق والے ہیں تو ان کو یہ حق نہیں ہے کہ اس ناراضگی کے اظہار کے نتیجہ میں وہ ان کو کسی قسم کے طعنے دیں یا کسی رنگ میں گھٹیا سمجھیں۔اس وضاحت کے بعد ایک اور ہدایت ساری دنیا کی جماعتوں کو یہ دینی چاہتا ہوں کہ جہاں تک میں نے جھگڑوں اور فتنوں کی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے ایک سبب ہر جگہ موجود دکھائی دیا ہے کہ جب بھی کوئی بد اخلاق آدمی مجلس عاملہ میں آجائے تو اس سے ضرور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ایسا شخص جس کی زبان میں تیزی ہے جو طبعا بد خلق آدمی ہے اور پر واہ نہیں کرتا کہ اس کی بات سے کسی کا دل کرتا ہے۔اپنے ساتھی کے ساتھ ادب اور احترام سے گفتگو کرنے کی بجائے کڑوی بات پتھر کی طرح مارتا ہے۔بعض لوگ اس کا نام سچائی قرار دیتے ہیں کہ دیکھو جی ! ہم تو سچی بات کریں گے۔ہم تو رکھیں گے نہیں۔یہ سچی بات نہیں ہے یہ بدتمیزی ہے۔سچ بولنے میں اور سچ بولنے میں فرق ہوا کرتا ہے۔ایک با اخلاق انسان بیچ بات کہتا ہے مگر حتی المقدور کوشش کے ساتھ کہ کسی کو دکھ نہ پہنچے اور جو سچ کے نام پر بدتمیزیاں کرتے ہیں وہ بچے ہوتے بھی نہیں ہیں۔یہ بھی میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب ان کا جائزہ لیا جاتا ہے تو سچ کے نام پر بڑے بڑے جھوٹ بول جایا کرتے ہیں۔بدخلق انسان سے بچیں اور چونکہ مجالس عاملہ کا انتخاب جماعت کرتی ہے اس لئے جماعت کو اپنے انتخاب