خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 806 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 806

خطبات طاہر جلد ۱۰ 806 خطبہ جمعہ ارا کتوبر ۱۹۹۱ء الفاظ میں نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی چندہ دینے والا بعد میں اس عذر کو سامنے رکھ کر یا کسی اور عذر کی بناء پر چندے کی واپسی کا مطالبہ کرے ایسی صورت میں جماعت پر نہ واپسی فرض ہے ، نہ اس کا کسی قسم کا حق ہے نہ وہ کوئی قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہے۔کئی مرتدین نے یہ قسمت آزماد دیکھی ہے لیکن عدالتوں نے ان کے اس موقف کو رد کر دیا ہے اس لئے جہاں تک اس کا تعلق ہے جسے چیز دی جائے اس کا اس چیز کو واپس کرنا ضروری نہیں کیونکہ واقعہ اس تک تے نہیں پہنچتی ، چاٹنے والے کے لئے قے ہے اور اس معاملہ میں غالباً میں نے جو تشریح کی تھی اس کو ضرورت سے زیادہ ممتد کر دیا تھا زیادہ کھینچ دیا تھا جو درست نہیں تھا۔چندہ خواہ گندی نیت سے دیا جائے یا ریا کاری سے دیا جائے یا کسی اور مکروہ بات کے ساتھ دیا جائے جب ایک دفعہ سلسلہ کومل جاتا ہے تو خدا کے نزدیک اس کا مکروہ فعل اس کی طرف لوٹایا جاتا ہے لیکن روپے کا لوٹنا ضروری نہیں ہے اس لئے خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔جو چندہ سلسلے کو ایک دفعہ پیش کیا جائے پیش کرنے والا چاہے کیسی ہی مکروہ نیت سے پیش کرے اسے مانگنے کا حق نہیں ہے۔اگر وہ مانگتا ہے تو اس کے اوپر قے والی مثال صادق آتی ہے۔باقی اس کے باوجود میں نے اس کی واپسی کا فیصلہ کیوں کیا؟ تو دراصل اس کے پیچھے سزا کا مضمون ہے۔حق کے طور پر واپس نہیں کیا جارہا بلکہ سزا کے طور پر کیونکہ ایک احمدی مخلص کے لئے اس سے بڑی سزا کم ہوگی کہ اس کا چندہ اسے لوٹا دیا جائے اور آئندہ کے لئے اسے چندہ دینے سے محروم کر دیا جائے۔کل ایک ملاقات کے دوران جس میں یوگوسلاویہ کے کچھ دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔ایک سیاسی راہنما جو جماعت میں بھی دلچسپی رکھتے تھے ، ان کو مالی نظام کی بحث میں جب میں نے یہ بتایا کہ ہم چندہ دینے والے کو جو زیادہ سے زیادہ سخت سزا دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسے چندہ واپس کردیں یا اسے کہیں کہ آئندہ تم سے چندہ نہیں لیا جائے گا۔اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے تو حیرت کے ساتھ ان کے منہ پھٹے کے پھٹے رہ گئے۔انہوں نے کہا یہ سزا ہے؟ دنیا میں تو کسی کو Tax واپس کریں تو وہ تو چھلانگیں لگائے ، گھروں میں ناچ گانے ہوں کہ شکر ہے ہمارے پیسے واپس ہو گئے یہ عجیب جماعت ہے جس کی سزا یہ ہے کہ پیسے واپس کر دئیے جائیں۔تو دراصل پچھلے خطبہ میں ہی کھول کر مجھے یہ سمجھا دینا چاہئے تھا کہ جماعت واپسی کی ذمہ دار