خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 790 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 790

خطبات طاہر جلد ۱۰ 790 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء اس طرح ملیں جیسے دل پر بجلی گرتی ہو اور تعجب اس لئے تھا کہ اس سے پہلے میں فتنوں کے خلاف ہی خطبات دے رہا تھا۔جرمنی میں خطبہ دیا، اس سے پہلے ہالینڈ میں دیا تھا، یہاں دیا تھا بعد میں ناروے خطبہ دیا اور ان میں سے بہت سے لوگ جو اس فتنے میں ملوث ہیں وہ ساتھ ساتھ پھر رہے تھے اور بڑے اخلاص کا اظہار ہورہا تھا کہ اب ہمیں خوب باتیں سمجھ آرہی ہیں لیکن تقویٰ کا بحران کہہ دیں یا عقل کا ، یہ ایسا خطرناک بحران تھا کہ ادھر میں یہاں واپس پہنچا ہوں اور ادھر امیر صاحب سویڈن کی طرف سے مجھے یہ فیکس ملی ہے کہ آپ کے جانے کے فوراًبعدا میر صاحب مالمو نے مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ بلائی اس میں جو باتیں پیش ہوئی ہیں وہ کچھ اس قسم کی ہیں۔جماعت سویڈن کا بجٹ ۴ لاکھ کے قریب ہے جبکہ مالمو کی جماعت کو مبلغ مالمو کے اخراجات شامل کر کے بھی ایک لاکھ سے کم رقم ملتی ہے، مالمو کی جماعت کی ضروریات کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ان کا ایک مطالبہ تو یہ ہے کہ سال کے شروع میں بجٹ کا سارا حصہ مالمومنتقل کر دیا جائے ،فنانس کمیٹی میں مالمو کی متناسب نمائندگی ہو نیشنل مجلس عاملہ میں مالمو کی مناسب نمائندگی ہو۔جب اس قسم کی باتیں ملیں تو میں نے فوری طور پر پستہ کروایا کہ یہ کیا تماشہ ہو رہا ہے اور بہت سی ایسی باتیں تھیں جو میں آگے بیان کروں گا جن سے پتہ چلتا تھا کہ کسی مقام کی مجلس عاملہ کا ان باتوں سے تعلق ہی کوئی نہیں اور پھر جب اس کے متعلق جواب طلبی کی گئی کہ تم مقامی امیر ہو یہ کیسی لغو باتیں تمہارے زیر صدارت ہورہی ہیں؟ کیوں تم نے فوری طور پر ان کو نہیں کہا کہ ایسی بے ہودہ باتیں میں نہیں ہونے دوں گا اور مجلس عاملہ کو برخاست کرتا ہوں اور وہ رپورٹ آگے کیوں نہیں بھجوائی ؟ تو جواب یہ ملا کہ یہ تو ان کی بڑی پرانی عادت ہے۔میں تو ان کو روکتا رہتا ہوں اور یہ مانتے ہی نہیں۔جب یہ بات سنی تو میں تو اور حیران رہ گیا کہ یہ کیا قصہ ہو رہا ہے؟ جب امیر سویڈن کی جواب طلبی کی گئی تو انہوں نے پھر وہ فہرستیں بھجوانی شروع کیں کہ فلاں مجلس عاملہ میں یہ بات ہوئی تھی ،فلاں میں یہ بات ہوئی تھی ،۔فلاں میں یہ بات ہوئی تھی اور اس کے اوپر دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔کسی نے مجھے اطلاع نہیں دی کہ یہ فتنے پیدا ہورہے ہیں جو جماعت کے عالمی نظام کے تقدس کے خلاف ہیں، اس مقدس پانی کو گدلا کرنے والے ہیں۔اگر ایک جگہ ایک ملک میں کسی ایک شہر میں نعوذ باللہ جماعت کی روایات کو ایسے گدلا کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر جماعت کے مقدس نظام کی حفاظت کی کبھی کوئی ضمانت نہیں رہے گی