خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 782 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 782

خطبات طاہر جلد ۱۰ 782 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء گا۔ابھی تک خدا کا شکر ہے کہ کسی مولوی کی مکمل Brand نہیں آئی۔اگر وہ آجائے تو اس ملک کے بچنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔خدا کرے اس تنکے سے پہلے پہلے یہ لعنتوں کے بوجھ جو اپنی کمر پر لاد بیٹھے ہیں ان کو ہلکا کرنا شروع کریں اور مكْرَ فِي آيَاتِنَا کی بجائے تفکر فی الآیات کی عادت ڈالیں۔مکر اور تفکر میں یہ فرق ہے مکر کے نتیجے میں انسان بہانے تلاش کرتا ہے اور اصل وجہ کو چھپاتا ہے اور دوسری وجہیں سوچ کر ان سے اپنے ضمیر کی غلطیوں پر پردے ڈالتا ہے لیکن تفکر کے نتیجے میں انسان گہرا ابھرتا چلا جاتا ہے۔وہ بات کی کہنہ تک پہنچتا ہے، وہ آخری طرف جس کی وجہ سے کوئی چیز اور کوئی سلسلہ شروع ہوتا ہے اس آخری کننہ تک پہنچ جاتا ہے اور یہ کچھ مشکل نہیں ہے۔پاکستان کی تاریخ کو احمدیت کے ساتھ پاکستان کے سلوک کی تاریخ کے ساتھ ملا کر پڑھیں ہر بات ایسے کھلتی چلی جائے گی جیسے دن کی روشنی میں آپ کچھ دیکھ رہے ہوں۔پس ایک مضمون تو مذہبی دنیا سے تعلق رکھنے والا مضمون ہے جس کا تاریخ سے بھی تعلق ہے حال سے بھی تعلق ہے مستقبل سے بھی رہے گا لیکن اس تعلق میں جب ہم آج کے پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے کہ سابقہ تاریخ سے استفادہ کرنے کی بجائے قو میں جب دوبارہ وہی ٹھوکر کھاتی ہیں تو پہلے سے بڑھ کر ٹھوکر کھایا کرتی ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے۔پہلی غلطی دہرانے والی قومیں اس مقام پر نہیں ٹھہرا کر تیں جو پہلی غلطی کا مقام تھا بلکہ ہمیشہ آگے بڑھ جاتی ہیں اور اسی طرح اب خدا کی پکڑ بھی بالآ خر آگے بڑھتی ہے اور اس جاری سلسلے کو دنیا میں کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ایک اور پہلو اس کا ذاتی سوچوں کا پہلو ہے اور روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والا ہے۔وہ یہ ہے کہ انسان جب بھی کسی مشکل میں مبتلا ہو تو ہر شخص کے دنیا کے اندر اسی قسم کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے وہ سوچتا ہے کہ میں کیوں اس مصیبت میں مبتلا ہوا؟ اب میں بچوں گا تو کیسے بچوں گا ؟ اگر میں بچ گیا تو کیا کچھ کروں گا؟ اور دعائیں کرتا بھی ہے اور کرواتا بھی ہے بسا اوقات لیکن جب بچ جاتا ہے تو ہمیشہ اس بچنے کا کریڈٹ یا اپنے آپ کو دیتا ہے یا اپنی کسی ہوشیاری کو دیتا ہے یا اپنے کسی علاج کو دیتا ہے یا اور کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتا ہے اور ہمیشہ تعریف خدا کے لئے دل میں پیدا نہیں کرتا بلکہ اپنے لئے یا اپنی کسی ہوشیاری کے لئے تعریف کا جواز پیدا کرتا ہے۔یہ ہمیشہ کا لفظ تو شاید درست نہ ہو کیونکہ