خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد ۱۰ 74 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء کرنے کے لئے شامل ہوئے اور ذرہ بھر بھی عدل یا رحم سے کام نہیں لیا اور ذرہ بھر بھی قومی حمیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔اس ضمن میں کچھ ممالک تو ایسے تھے جن سے مجھے یہی توقع تھی ، ان کے متعلق یہی احتمال تھا کہ ایسا ہی کریں گے جن میں ایک سعودی عرب ہے اور ایک Egypt اس لئے کہ Egypt پہلے ہی عالمی دباؤ کے نیچے آکر اور کچھ اپنا علاقہ واپس لینے کی خاطر اسرائیل کے ساتھ معاہدوں میں جکڑ ا جا چکا ہے اور اس وقت مغربی طاقتیں مصر کو کلیہ اپنا حصہ بجھتی ہیں۔دوسرے Saudi Arabia جس کی عالم اسلام سے غداریاں ایک تاریخی نوعیت رکھتی ہیں۔اس کا آغاز ہی غداری کے نتیجے میں ہوا اس کا قیام ہی غداری کے نتیجے میں ہوا۔مسلسل انگریزی حکومت کا نمائندہ رہا یا امریکن مفاد کا نمائندہ رہا اور اسلام کے دو مقدس ترین شہروں پر قابض ہونے کی وجہ سے مذہب کا ایک جھوٹا سا دکھاوے کا لبادہ پہنے رکھا جس کے نتیجے میں بہت سی مسلمان مملکتیں اس بد نصیب ملک کے رعب میں آئیں اور محض اس لئے اس سے محبت کرتی رہیں اور پیار کا تعلق رکھتی رہیں کہ وہ اسے سکے اور مدینے کا یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ اور خدا کا نمائندہ مجھتی تھیں۔اس ضمن میں میں نے بارہا بعض مسلمان ریاستوں کے نمائندوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ تم بڑے دھوکے میں مبتلا ہو میں سعودی عرب کی تاریخ کو اچھی طرح جانتا ہوں وہابیت کی تاریخ سے خوب واقف ہوں۔تم یہ سمجھتے ہو کہ مکے اور مدینے کے میناروں سے جو آوازیں بلند ہوتی ہیں یہ اللہ اور رسول کی آوازیں ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان میناروں پر صرف لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے ہیں اور مائیکروفون واشنگٹن میں ہیں اور ان مائیکرو فونز پر بولنے والا اسرائیل ہے کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کسی لمبی چوڑی دلیل کی ضرورت نہیں کوئی انسان جو موجودہ حالات کا ذرا سا بھی علم رکھتا ہے یہ دوٹوک بات خوب جانتا ہے کہ سعودی عرب کلیۂ امریکہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور امریکہ کلیه اسرائیلی اقتدار میں داخل ہو چکا ہے اور اسرائیلی اقتدار کو عملاً اپنی پالیسیز Policies میں قبول کر چکا ہے۔یہ ظاہری صورت ہے جو نظر آتے ہوئے بھی مسلمان ممالک اس صورت سے اندھے رہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جماعت احمدیہ کو انتہائی جھوٹے اور غلیظ پرو پیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا کہ جماعت احمد یہ انگریز کی ایجنٹ ہے اس لئے جب مسلمان ممالک کے نمائندے ہم سے یہ