خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 765 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 765

خطبات طاہر جلد ۱۰ ویسے ہی رنگ اختیار کرتے ہیں۔765 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بسا اوقات اپنے خطبات میں صحابہ کی مالی قربانیوں کے تذکرے اس رنگ میں کیا کرتے تھے کہ اس سے بچپن سے ہی لوگوں کے دلوں میں اس قسم کی قربانیاں کرنے کی تمنا پیدا ہو جاتی تھی اور آج کل کے زمانے میں بھی جماعت احمدیہ نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس مضمون میں نئے رنگ بھرے ہیں اگر چہ اتباع ان ہی لوگوں کی کی ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جو نئے رنگ پیدا ہوتے ہیں وہ اس مضمون میں زیادہ دلکشی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں لیکن بنیادی ادا ئیں نہیں بدلتیں ان میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔جن باتوں کے متعلق خدا نے یہ فرمایا کہ رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وہ بنیادی صفات ہر انسان کی ہر زمانے میں ایک ہی رہتی ہیں۔یہ مضمون سمجھنے کے لائق ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر قرآن بھی بدلنا ہو گا پھر کوئی کتاب ہمیشہ کے لئے کامل نہیں ہو سکتی مگر چونکہ قرآن کریم دین فطرت ہے اس لئے ان فطری مضامین کو کھول کھول کر بیان فرماتا ہے جن میں تبدیلی کوئی نہیں۔لا تبدیل لخلق اللہ کا مضمون ہے چونکہ انسانی فطرت سے ان باتوں کو باندھا گیا ہے اور فطرت میں تبدیلی نہیں ہوتی لیکن اس فطرت کے مظاہر بدلتے رہتے ہیں۔وہ مختلف رنگ میں اپنا اظہار کرتی ہے۔تو جب میں کہتا ہوں کہ نئے رنگ بھرے تو میری مراد یہ نہیں کہ انہوں نے نئی ادا ئیں بنائی ہیں۔ادا ئیں وہی ہیں جو محد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی تھیں۔رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ لیکن ان میں اپنے اپنے انداز کے مطابق اپنی اپنی انفرادی حیثیت کے مطابق نئی قسم کے جذبات اور اظہارات کو داخل کیا ہے اور ایک انفرادیت پیدا کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے جہاں احسان کا ذکر فرمایا وہاں یہ مراد ہے کہ ان لوگوں کی پیروی کر کے اپنے اعمال کو حسین سے حسین تر بناتے رہتے ہیں۔دوسرے مضمون کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کی پیروی کی جاتی ہے۔اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ کہ احسان کا ایک معنی ہے بہت ہی زیادہ حسین نیکی۔کیونکہ آنحضرت ہ نے سب سے اعلیٰ درجے کی نماز کی جو تعریف فرمائی ہے اسے احسان قرار دیا ہے اور قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ احسان کا یہ معنی ایک دینی اصطلاح ہے کہ ایسی نیکی جو اپنی ذات میں درجہ کمال کو پہنچی ہوتو فرمایا کہ وہ ان کی پیروی میں یہ نہیں دیکھتے کہ ان سے کمزوریاں کیا سرزدہوئیں اور ان کو اپنے