خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 756 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 756

خطبات طاہر جلد ۱۰ 756 خطبه جمعه ۱۳ رستمبر ۱۹۹۱ء ہے وہاں امیر کو وہ پابند نہیں کر سکتی کہ تم نے چونکہ ہم سے مشورہ لیا تھا اس لئے اب اس جگہ ٹھہراؤ جہاں ہم سمجھتے ہیں ہماری اکثریت سمجھتی ہے۔اس کا اکثریت کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔جو مشورے ہیں امیرسن کر متعلقہ متوقع مہمان کو لکھ دے کہ یہ یہ آراء آئی تھیں۔آپ نے ٹھہرنا ہے، آپ کی مرضی ہے جہاں چاہیں ٹھہریں لیکن ان باتوں کو محوظ رکھ لیں۔اگر ایسا ہو تو خدا کے فضل سے کسی جگہ بھی کوئی بدمزگی پیدا نہیں ہوسکتی۔مجھے یاد ہے کہ وقف جدید یا خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کے دوروں کے وقت کئی دفعہ میرے ساتھ بھی ایسا ہوا کرتا تھا۔بعد میں لوگ آتے تھے کہ جی! ہم نے تو کہا تھا کہ وہاں ٹھہرائیں لیکن انہوں نے یوں کیا۔میں نے کہا کہ تم نے کہا تھا تو تمہیں اختیار کس نے دیا ہے کہ تم اتنے معتبر بن جاؤ کہ ضرور تمہاری مرضی چلے۔نہیں ٹھہرایا تو کیا فرق پڑتا ہے۔مجھے تکلیف ہوئی ہے۔تمہیں کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔میں نے خوشی سے قبول کر لیا بات ختم ہوئی۔اب تمہیں کوئی حق نہیں کہ لوگوں کے کان بھر دیا میرے کان آکر بھرو کہ جناب ہم نے تو آپ کے لئے اچھی جگہ تجویز کی تھی۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے جان کر آپ کو خراب کرنے کے لئے فلاں جگہ رکھی ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی کمپنی باتیں ہیں۔جماعت بہت بلند مقام کی جماعت ہے۔خدا کی جماعت ہے۔ایسی باتیں کریں جو خدا لگتی ہوں۔ایسی باتیں کہیں جو خدا والوں کو زیب دیتی ہوں۔اپنے مرتبے اور مقام کو پہچانیں اور اس مقام پر رہیں جس کی آپ سے توقع کی جاتی ہے۔پھر انشاء اللہ تعالیٰ کوئی فتنہ آپ کے اندر راہ نہیں پاسکے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین