خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 755
خطبات طاہر جلد ۱۰ 755 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء جائے یا کون اس کی مہمان نوازی کرے گا۔ہاں مہمان نوازی کی حد تک تو امیر کا کام ہے فیصلہ کر سکتا ہے۔سیکرٹری ضیافت موجود ہے۔سیکرٹری ضیافت کا کام سیکرٹری ضیافت ہی کرے گا اور امیر اس کو یہ ہدایت کر سکتا ہے کہ بھئی ! یہ کام کرو اور یہ نہ کر ولیکن امیر کو یہ بھی اختیار نہیں ہے کہ مرکز کی منظوری کے بغیر سیکرٹری ضیافت کے کام دوسروں کے سپر د کرے۔اس سے بھی دیکھا گیا ہے کہ فتنے پیدا ہوئے ہیں۔اچھا ہوا ضمنا اس بات کا ذکر چل پڑا۔میں یہ بھی سمجھاتا چلوں کہ سیکرٹری ضیافت کا کام اس طرح پر کہ سیکرٹری ضیافت کوئی اور ہو اور اس کا کام کسی اور کے سپر د کر دیا جائے۔امیر کا یہ فیصلہ ویسا ہی ہو گا جیسا کہ سفر خرچ کے بجٹ میں جو بل پڑنے چاہئیں وہ بل اٹھا کر کسی اور مد میں داخل کر دے۔مدیں بدلنے کا امیر کو اختیار نہیں ہے اس لئے اگر سیکرٹری ضیافت اس بات کا نا اہل ہے کہ امیر کی ہدایات کے تابع وہ ضیافت یعنی مہمان نوازی کا حق ادا کرے تو بروقت امیر کو چاہئے کہ مرکز میں وجو ہات لکھ کر اس کی تحقیق کروائے یا مرکز سے فیصلہ لے کر اس کو بدل دینا چاہئے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ ایک عہدہ کسی کے پاس رہے اور اس کو اس طرح ذلیل کیا جائے کہ عہدہ تو تمہارے پاس رہے گا کام ہم تم سے نہیں لیں گے ، کام کسی اور کے سپرد کر دیں گے۔اس کے نتیجہ میں بھی بے اطمینانی بڑھتی ہے اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔پس امارت کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔آپ سب لوگ مل کر محبت اور تقویٰ سے امیر کی مدد کریں اور ان باتوں میں اگر امیر غلطی کرتا ہے تو چونکہ میں اب آپ کو تفصیل سے سمجھا رہا ہوں آپ بھی ادب اور احترام سے اس کو سمجھائیں لیکن یاد رکھیں کہ اگر اس کے باوجود امیر اپنے ان اختیارات سے تجاوز کرتا ہے جوا سے ملے ہوئے ہیں اور وہ اختیارات حاصل کرتا ہے جو اسے ملے نہیں تو پھر جماعت اس کی اطاعت سے اس حصہ میں باہر ہے اور اس صورت میں جماعت کا فرض ہے کہ فوری طور پر مرکز سلسلہ کو مطلع کرے کہ یہ صورت پیدا ہورہی ہے جو بہت خطرناک ہے۔پھر مرکز کا کام ہے کہ اگر اصلاح طلب معاملہ ہے تو اصلاح کرے ورنہ اس امیر کو ہٹا کر کسی اور کو مقرر کرے۔ہاں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بعض دفعہ سادگی میں اس بے چارے کو پتہ ہی نہیں کہ کون سا مشورہ کیا حیثیت رکھتا ہے یہ جو پہلو ہے اس کو مزید کھو لنے کی ضرورت ہے مجلس عاملہ سے مشورہ لینا منع نہیں ہے۔اکثر صورتوں میں امیر کو مجلس عاملہ میں باتیں کھولنی چاہئیں اور وہاں سے مشورہ حاصل کرنا چاہئے لیکن مجلس عاملہ کو فیصلے کا اختیار نہیں ہے اس معاملہ میں اس لئے جہاں فیصلے کا اختیار نہیں