خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 754 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 754

خطبات طاہر جلد ۱۰ 754 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء کیا بعض لوگ امیر کی تائید کر رہے ہوتے ہیں لیکن تقویٰ کے بغیر اس کے نتیجہ میں مخالف رائے رکھنے والے مجبوراً ایک گروہ بن جاتے ہیں۔گویا کہ ان کو تحریک کی جاتی ہے کہ تم اکٹھے ہوورنہ ہم نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ ہر بات میں غلط ہو یا صیح ہوا میر کی تائید کر کے اس کا جتھہ بن جائیں گے۔پس ان معنوں میں امیر کا جتھہ بن سکتا ہے لیکن یہ جتھہ پھر خدا کا جتھہ نہیں ہوگا امراء پر بھی بڑی ذمہ داری ہے وہ ہمیشہ اس بات کے نگران رہیں کہ مشورے میں اللہ کا خوف ہمیشہ دامن گیر رہے اور سچائی کو عظمت دی جائے کسی دوستی اور تعلق کو عظمت نہ دی جائے۔اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو آج مجھے کہنی تھیں اور خیال تھا کہ شاید اسی خطبہ میں بات ختم ہو جائے لیکن میرے خطبہ کے مقررہ وقت میں چند منٹ رہ گئے ہیں اور ابھی مضمون باقی ہیں۔پھر کبھی انشاء اللہ میں اس سلسلہ میں مزید باتیں کروں گا۔ایک بات آخر پر میں یہ بتانی چاہتا ہوں کہ بعض باتیں ایسی ہیں جن کو بے وجہ امراء مجلس عاملہ میں لاکر اپنی ناسمجھی کی وجہ سے یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے اختلافات کے بیج ڈال دیتے ہیں اور ماحول مکدر ہونے لگتا ہے۔مثلاً ایک عہدیدار نے ، ایسے مرکزی عہدیدار نے یا علاقائی عہد یدار نے کسی جماعت کا دورہ کرنا ہے جس کے لئے دلوں میں احترام پایا جاتا ہے تو بعض دفعہ مقامی امیر اس کو مجلس عاملہ میں رکھتا ہے کہ اس کو کہاں ٹھہرایا جائے اور اس پر پھر اختلافات شروع ہو جاتے ہیں۔بعض لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے گھر ٹھہرے۔بعض لوگوں کی خواہش ہوتی ہے ہمارے گھر ٹھہرے۔بعض کہتے ہیں کہیں بھی نہ ٹھہرے ہوٹل میں انتظام ہو اور اس چھوٹی سی بات پر وہ تکرار شروع ہو جاتی ہے کہ الامان اور الحفیظ۔بڑے بڑے سمجھدار لوگ نہایت ہی احمقانہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ ایسی بات ہی نہیں جسے مجلس عاملہ میں رکھ کر فتنے کا موجب بنایا جائے۔مجلس عاملہ کو اس فیصلہ کا اختیار ہی نہیں ہے کہ آنے والے مہمان کو کہاں ٹھہرائے۔جس کا مجلس کو اختیار ہی نہیں ہے اس کو اس کا موضوع بنانے کا کیا حق ہے۔مجلس عاملہ میں ان معنوں میں مشورہ کے لئے بات رکھی جاسکتی ہے کہ آپ مجھے مشورہ دے دیں آنے والے کا فیصلہ ہے کہ جہاں چاہے وہ ٹھہرے گا۔آپ میں سے جو کسی کے مشورے ہوں گے میں ان تک پہنچا دوں گا لیکن یہ ایسا امر نہیں ہے جس میں مجلس عاملہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔اس کا نظام جماعت میں کہیں بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ مجلس عاملہ کی ذمہ داریوں میں یہ بھی ہے کہ آنے والے مہمان کے متعلق فیصلہ کرے کہ اس کو کہاں ٹھہرایا