خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 750 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 750

خطبات طاہر جلد ۱۰ 750 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء پھر بارہا یہ سمجھایا گیا ہے کہ اگر آپ کا بجٹ ختم ہونے والا ہے اور آپ کو ضرورت ہے تو پیشتر اس سے کہ آپ کو ضرورت پیش آجائے اور بجٹ ختم ہو چکا ہو آپ مجلس عاملہ کی میٹنگ بلایا کریں اوراس میں Approval لیا کریں لیکن اس کی بجائے سال کے آخر پر جب ہم سب حساب منگواتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ جی افلاں مد میں مجبوری پیش آگئی تھی۔فلاں میں مجبوری پیش آگئی تھی اس کا اتنا منظور کیا جائے اتنا منظور کیا جائے۔بعض دفعہ تو نظر انداز کرنا پڑا ہے کیونکہ ابھی پوری تربیت نہیں ہوئی لیکن آج اس خطبہ کے بعد اب میں یہ بات کھول دیتا ہوں کہ بہت دفعہ میں ایسی غلطیوں کو نظر انداز کر چکا ہوں۔آئندہ نہیں کی جائیں گی کیونکہ نظام جماعت میں سے مال کے نظام کی حفاظت نہایت ضروری ہے آئندہ سینکڑوں سال کا اس کے ساتھ تعلق ہے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس رنگ میں قربانیاں پیش کرتی ہے وہ بے مثل ہیں ان کا دنیا میں کسی اور نظام کسی اور جماعت میں عشر عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا اس مقدس نظام کی حفاظت ضروری ہے اور اس کی حفاظت کے سلسلہ میں اخراجات کی حفاظت بڑی ضروری ہے۔اگر جماعت کو کامل یقین رہے کہ اخراجات کی پوری طرح نگرانی ہورہی ہے اور قوانین سے سرمو بھی انحراف نہیں ہورہا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو خدا تعالیٰ نے اتنا بڑا حوصلہ عطا فرما دیا ہے اور دین کی راہ میں خرچ کرنے کا ایسا چسکا ڈال دیا ہے کہ پھر سلسلہ کے خزانے کبھی بھی ختم نہیں ہو سکیں گے ہر ضرورت جس طرح پوری ہو رہی ہے آئندہ بھی ضرور پوری ہوگی لیکن جہاں ہمارے لئے تم میں فتور آئے گا وہاں یہ سب برکتیں جاتی رہیں گی۔پس مالی امور میں چھوٹی سے چھوٹی باتوں میں بھی اپنے ہاتھ میں قانون کو لینا گناہ سمجھنا چاہئے اور یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ دیانتداری کی تعریف میں صرف یہ بات بھی داخل ہے کہ روپیہ دین کا ہے دین پر خرچ کرو حالانکہ دیانتداری کی تعریف میں یہ بات داخل ہے کہ جس بات کے تم مجاز ہو وہی کرو۔جس بات کے مجاز نہیں ہو وہ نہ کرو۔یہاں اگر ہم نے دیانت کی حفاظت کی تو ذاتی اخراجات کا سوال ہی باقی نہیں رہے گا۔وہ بد دیانتی جو دین کے مال کو اپنے اوپر خرچ کرنے پر منتج ہوتی ہے اس کا آغاز اسی قسم کی بددیانتیوں سے ہوا کرتا ہے۔ایک جگہ بے احتیاطی کی ، دوسری جگہ بے احتیاطی کی۔رفتہ رفتہ اس بے احتیاطی نے جرات دلا دی۔حیاء کم کر دی اور پھر سلسلے کے اخراجات ذات پر بھی ہونے لگتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے واقعات جماعت احمدیہ میں بہت شاذ کے طور پر ہیں اور جہاں بھی