خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد ۱۰ 749 خطبه جمعه ۱۳ رستمبر ۱۹۹۱ء اختیار ہے کسی عہدیدار کو نہیں کہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے ایک مد سے دوسری مد میں روپیہ منتقل کرے۔لیکن مجلس عاملہ کو بھی اختیار نہیں کہ ایک مد کا خرچ بغیر مرکز کو بتائے کسی اور مد میں ڈال دے۔یہ بد دیانتی ہے اور یہاں سے آگے پھر بہت قسم کے فتنوں کے رستے کھل جاتے ہیں۔اگر سفر خرچ کی مدختم ہوگئی ہے تو سفر خرچ کی مد کو بڑھانا چاہئے۔سفر خرچ کے بل دوسری مد میں نہیں جائیں گے اور عملاً یہ جو خاموشی کے ساتھ بات کر دی جاتی ہے وہ یہ ہوتی ہے بجائے اس کے کہ مجلس عاملہ بیٹھے اور یہ فیصلہ کرے کہ سفر خرچ کی مد کو ایک لاکھ کی بجائے ہم پانچ لاکھ کرتے ہیں اور زائد چار لاکھ روپیہ فلاں فلاں مد سے کاٹ کر ادھر منتقل کرتے ہیں، جو ایک جائز بات ہے۔اس کی بجائے سفر خرچ کی مد ایک لاکھ کی ایک لاکھ رہتی ہے اور بل سفر خرچ کے دوسری مدوں میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔سفر خرچ کی مثال میں صرف ایک مثال کے طور پر پر دے رہا ہوں لیکن ہر مد سے اسی قسم کی باتیں ہیں یعنی اپنے آپ کو برابر کرنے کی خاطر ایک دن امیر صاحب اور ان کے ساتھی مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی ! یہ جوزائد خرچ ہے اس کو اب کس طرح ٹھیک کرنا ہے (اور پھر یہ طے ہوتا ہے کہ ) اچھا جی ! اس کو فلاں فلاں مد میں ڈالتے چلے جاؤ یہ سراسر بد دیانتی ہے۔بددیانتی سے مراد یہ نہیں ہوا کرتی کہ اپنی جیب میں ڈالا گیا ہے۔امانت کی خیانت ہے، یہ سلسلے نے بعض قوانین کے تابع ان کو اخراجات کی اجازت دی تھی۔ان قوانین کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور مرکز کو دھوکہ دیا جارہا ہے کہ آپ کے قوانین کے تابع خرچ ہورہے ہیں۔پس مجلس عاملہ کے ہر ممبر کو اس بات پر نگران رہنا چاہئے کہ بحیثیت مجلس عاملہ جو اختیارات ہیں ان کے اوپر کوئی اور چھا پہ نہ مار سکے۔ان اختیارات کو ناجائز طور پر کوئی اپنے قبضے میں نہ کرے۔ایک اختیار جو مجلس عاملہ کو بھی نہیں ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی بجٹ کو از خود بڑھادے۔مثلاً مجموعی بجٹ اگر دس لاکھ گلڈرز ہے تو دس لاکھ گلڈرز کے اندر مدات میں کہیں پچاس ہزار، کہیں دس ہزار مختلف مدات ہیں جن میں وہ روپیہ تقسیم ہوا ہے۔مجلس عاملہ کی طرف سے اندرونی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں انفرادی طور پر نہیں لیکن دس لاکھ گلڈرز کو گیارہ لاکھ بنانے کا ان کوکوئی اختیار نہیں اس کے لئے لازمی مرکز سے پوچھنا ہوگا کہ آیا دوران سال ہم بجٹ کو بڑھا سکتے ہیں یا نہیں اور ان امور میں بھی بعض دفعہ بغیر مرکز کی اجازت کے تجاوز کر جاتے ہیں۔