خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 748
خطبات طاہر جلد ۱۰ 748 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء پہلو اور احترام کا پہلولازمی ہے اور ایسا شخص جوامیر کے ساتھ دستخط کرنے پر مقرر کیا گیا ہے اگر انکار کرتا ہے تو بڑی بھاری ذمہ داری کو قبول کرتا ہے۔شک کی بناء پر اس کو انکار کا حق نہیں ہے۔وہ واضح طور پر جہاں خلاف ورزی دیکھتا ہے وہاں جب انکار کرتا ہے تو پوری ذمہ داری قبول کرتا ہے۔اس کو یقین ہونا چاہئے کہ میرا یہ انکار درست ہے۔اس میں اور بہت سے پہلو ہیں جن کو نظر انداز کیا جارہا ہے مثلا ایک بجٹ سفر خرچ کا مقرر ہوا ہے ایک بجٹ مہمان نوازی کا ہے۔ایک کسی اور چیز کا بجٹ ہے۔خرچ تو امیر نے کرنا ہے یا امیر کے تابع جو انتظامیہ ہے اس نے کرنا ہے کیونکہ بحیثیت منتظم ہر شخص کو کچھ نہ کچھ خرچ اپنے دائرہ کار میں کرنے ہوتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ رقمیں جو مقرر کر دی گئی ہیں ان سے وہ تجاوز کریں لیکن ہوتا یہ ہے کہ اگر سفر خرچ کی مد پر غیر معمولی خرچ ہورہا ہے تو کسی اور مد سے اس مد کے نام پر لیکن سفر خرچ کے لئے رقم خرچ کی جاتی ہے۔اس معاملہ میں یہ ہوہی نہیں سکتا کہ کسی اور کو علم نہ ہو۔جس بجٹ سے خرچ ہورہا ہوتا ہے اس کو محاسب دیکھتا ہے نظام جماعت کا آڈیٹر ہے وہ اس کو دیکھتا ہے اور یہ نظام اسی لئے مقرر کئے گئے ہیں کہ وہ بر وقت مرکز کو مطلع کریں کہ کون سے اخراجات اپنے موقع اور محل کے مطابق درست ہیں۔بسا اوقات جب میں تحقیق کرواتا ہوں تو رپورٹ آجاتی ہے کہ جی ! سب کچھ ٹھیک ہے کوئی غلطی نہیں لیکن میرے دل میں چونکہ ایک قسم کا دھڑ کا سا لگ جاتا ہے کہ صورتحال درست نہیں ہے۔پھر میں تفصیل سے یہ رپورٹ منگوا تا ہوں بعض دفعہ امراء کو کہتا ہوں کہ مجھے اپنے فلاں فلاں اخراجات کے سارے بل بھجوائیں۔وقت تو میرا لگے گا لیکن مجبوری ہے اب جب تک میرے دل کو اطمینان نہ ہو جائے کہ مالی معاملات میں سب کچھ ٹھیک ہے اس وقت تک میں مزید آپ کو اجازت نہیں دے سکتا۔جب بل منگواتا ہوں تو اس وقت بات سمجھ آتی ہے کہ سفر خرچ پر اگر ایک لاکھ روپیہ خرچ ہونا چاہئے تھا تو پانچ لاکھ ہوگیا ہے لیکن وہ چار لاکھ سفر خرچ کی مد میں نہیں لیا گیا بلکہ فلاں مد میں سے اور فلاں مد میں سے اور فلاں مد میں سے وہ بل ادھر منتقل کر دیئے گئے۔یہ نا جائز ہے اور جب پوچھا گیا تو یہ بتایا گیا کہ جی ! مجموعی بجٹ میں تو گنجائش تھی۔ہم نے وہاں سے لے کر خرچ کر دیا۔اس کے متعلق دو باتیں جماعت کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرنی چاہئیں۔مجلس عاملہ کو