خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 747
خطبات طاہر جلد ۱۰ 747 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء خلیفہ المسح سے یہ عہد نہیں ہے کہ میں ہر بات میں آپ کی اطاعت کروں گا، جوبھی نیک کام آپ مجھے بتائیں گے انہی میں آپ کی اطاعت کروں گا۔جو معروف فیصلہ ہوگا اس میں آپ کی اطاعت کروں گا۔پس نیک کام اور معروف فیصلے سے مراد یہ ہے کہ شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے جتنے۔وہ احکامات ہیں ان میں میں تابع فرمان رہوں گا اور ان سے باہر کی اطاعت کا سوال ہی نہیں۔اطاعت شیطانی بن جائے گی اس لئے امارت کے ساتھ بھی آپ کا تعلق اسی مضمون کے تابع ہے۔اگر کہیں کوئی امیر اپنے مالی اختیارات کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے تجاوز کرتا ہے تو مجلس عاملہ کا فرض ہے بلا تاخیر اس کے متعلق خلیفہ وقت کو یا دوسرے کو جو بھی اوپر مقرر ہے اس کو مطلع کرے اور اس بارہ میں واضح قوانین ہیں کہ کہاں تک ان معاملات میں فوری تعاون کرنا ہے اور کہاں نہیں کرنا۔مثلاً پیسے نکلوانے کے لئے ایک امیر کے ساتھ سیکرٹری مال کے دستخط بھی ضروری ہیں یا بعض دفعہ جماعت کے دو اور عہدیداران کے دستخط کروائے جاتے ہیں اور ساری دنیا میں یہی نظام مقرر ہے کہ سلسلے کے اموال پر کوئی شخص اکیلا اس طرح نہیں بیٹھے گا کہ جب چاہے جو چیز نکلوالے بلکہ خواہ کتنا ہی بڑا اس کا مقام ہواس کے ساتھ کسی اور کو دستخط کرنے ہوں گے۔ہرایسے مقام پر جہاں واضح طور پر مرکزی ہدایت کے خلاف روپیہ نکلوایا جا رہا ہے وہاں ساتھ کے دستخط کرنے والا بھی ذمہ دار ہو جاتا ہے کیونکہ اس کو امین بنایا گیا ہے اور اسی لئے اس کے دستخط ساتھ رکھے گئے ہیں تا کہ اس کو علم ہو کہ کون سی بات ہورہی ہے اور اگر وہ خلاف قانون ہو رہی ہے تو وہ اس میں روک بن جائے۔ایسی صورت میں اب تک کی جو میری ہدایت تھی وہ یہ تھی کہ سیکرٹری مال اگر امیر کو واضح طور پر خلاف قاعدہ رقم نکلواتے ہوئے دیکھے تو دستخط کرنے سے پہلے احتجاج کرے۔اگر پھر بھی وہ حکم دے تو پھر دستخط کر دے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ایسی صورت میں جو دومشیر ہیں ان کا کام ہے کہ انکار کریں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ واضح طور پر خلاف قاعدہ حرکت ہے اس لئے ہم دستخط نہیں کریں گے۔آپ ہماری شکایت اوپر کریں اور ہم بھی اس معاملہ کو اوپر بھیجتے ہیں اور فوری طور پر اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔آج کل ٹیلی فونز کے ذریعہ رابطے اتنے فوری ہو چکے ہیں کہ دنیا کے کسی کونے سے بھی بلا تاخیر رابطہ ہو سکتا ہے اور اس قسم کی باتیں شاذ کے طور پر ممکن ہیں۔اس لئے کوئی ایسی وجہ ہی نہیں ہے کہ اس کے نتیجہ میں بڑا افساد کھڑا ہو لیکن انکار کرنے کے وقت بھی ادب کا