خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 744

خطبات طاہر جلد ۱۰ 744 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء ایسے اختیارات سب سے زیادہ تفویض کئے ہیں جو نظام جماعت میں خلافت کی طرف سے ہمیشہ تفویض کئے جاتے ہیں۔مختلف عہدیدار ہیں سیکرٹری مال کو بھی اختیار تفویض ہوئے ہوئے ہیں۔سیکرٹری تبلیغ کو بھی ہیں ، ایک جماعت کے صدر کو بھی ہیں لیکن سب سے زیادہ اختیارات امیر کو ہیں کیونکہ امیر خلیفہ وقت کا براہ راست نمائندہ ہوتا ہے۔انتخاب مشورے کی خاطر کیا جاتا ہے مگر اس کو ڈیموکریٹک انتخابات سے تعلق نہیں ہے۔ڈیموکریٹک انتخاب میں جو یہ روح ہے کہ عوام کی رائے معلوم ہو جائے اس حد تک یہ ڈیموکریٹک ہے مگر عوام کے لئے بہتر کیا ہے؟ یہ فیصلہ بعض دفعہ عوام کی رائے سے نہیں بلکہ خلیفہ وقت کی موقعہ شناسی سے ہوتا ہے اور بہت کم ایسا موقعہ آتا ہے مگر بعض دفعہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی چالا کی کی وجہ سے اور اپنے جتھے کی وجہ سے زیادہ ووٹ حاصل کر لئے ہیں۔اگر اس انتخاب کو منظور کر لیا گیا تو جماعت میں چالاکیاں دکھاوے اور جتھہ بندی کی روح کو تقویت ملے گی۔کیونکہ وہ اس دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے اور براہ راست نہیں مگر رسول کی وساطت سے اس لئے وہ اس وجہ سے فیصلے کر رہا ہوتا ہے اور چونکہ جماعت کا اس کے ساتھ تعلق کسی صدر یا امیر کی معرفت نہیں ہوتا بلکہ ہر فرد بشر کا براہ راست تعلق ہے اس لئے وہ اس کے فیصلے کو ہمیشہ ترجیح دیتی ہے اور ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں کرتی کہ ان کی رائے کے مطابق انتخاب کیوں نہیں کیا گیا۔یہ حفاظت کا وہ دہرا نظام ہے جو خدا کے فضل سے صرف جماعت احمدیہ کو دنیا میں نصیب ہے دنیا کی کسی اور ڈیموکریسی کسی اور نظام کو دہری حفاظت کا یہ نظام میسر نہیں۔بہر حال اس طریق کار پر جو امارت ہے اس کو سب سے زیادہ اختیارات خلیفہ وقت کی طرف سے تفویض کئے جاتے ہیں اور اس کے بعد صدارت ہے جس عہد یدار کو صدر کہتے ہیں اس کو بھی نمائندگی کے اختیارات ہیں لیکن نسبتا کم۔وہ کیا کیا ہیں، کہاں کہاں فرق ہے۔مجلس عاملہ کا ان سے کیا تعلق ہے؟ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کو جماعت احمدیہ کے سامنے خوب کھول کھول کر بیان کرنا چاہئے کیونکہ دنیا کے ۱۲۶ ملکوں میں جماعت نافذ ہوچکی ہے۔وہاں کے خدانخواستہ نظر سے اوجھل پیدا ہونے والے اختلافات فتنوں کا رنگ اختیار کر سکتے ہیں چونکہ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ خلیفہ وقت کے خطبات کو فوری طور پر تمام دنیا میں جماعتوں تک پہنچایا جائے اس لئے یہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم جماعتی نظام سے ساری جماعت کو روشناس کرا سکتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کے دل