خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 743 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 743

خطبات طاہر جلد ۱۰ 743 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء جاتا ہے اور اسی کا نام عقل کل ہے۔بعض دفعہ اپنی مرضی کے خلاف فیصلے کرتا ہے اس لئے کہ اس کو یہ بات دکھائی دے رہی ہوتی ہے کہ میری مرضی اس وقت خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔میری خواہش خدا کے خواہش کے خلاف ہے اور ایسے فیصلوں پر وہ ہمیشہ اپنے نفس کی تمنا پر اپنے رب کی اس خواہش کو ترجیح دیتا ہے جو وہ تصور کرتا ہے، یہ تقویٰ ہے اور اس کے نتیجہ میں عقل روشن ہوتی ہے اور تقویٰ کے ساتھ فیصلے کرنے والا کبھی پارٹی بازی کا شکار ہو ہی نہیں سکتا کبھی ایک کی تائید کرے گا کبھی دوسرے کی تائید کرے گا۔تائید کی خاطر نہیں بلکہ بات کی خاطر۔آنحضور ﷺ نے اس موقعہ سے تعلق رکھنے والی نصیحت فرمائی کہ الحكمة ضالة المومن ( ترندی کتاب العلم حدیث نمبر: ۲۶۱) کہ حکمت کی بات تو مومن کی گمشدہ اونٹنی ہے وہ اس کا مالک ہے۔اگر دشمن سے بھی آئے تو وہ اسے لے لے گا۔کبھی یہ تو نہیں ہوا کہ کسی کی کار چوری ہو جائے تو وہ کہے کہ بڑے کمینے دشمن کے پاس سے نکلی ہے میں نہیں لوں گا۔جتنی بڑی دشمنی ہو اتنا ہی وہ جلدی اس کو لینے کی کوشش کرے گا۔اس لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھیں مومن کے ساتھ کیسا حکمت کا رشتہ باندھ دیا کہ کسی صورت میں بھی مومن حکمت سے الگ نہیں ہو سکتا۔پس اگر ایسے لوگوں کی طرف سے حکمت کی بات امیر کو ملے جن کے بارہ میں وہ عمومی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ میری تائید نہیں کرتے تو اسے دونوں ہاتھوں سے قبول کرے اور جو غلط تائید کرتے ہیں ان کی سرزنش کرے کہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو یہ اچھی بات ہے اس کے نتیجہ میں اگر خدا نخواستہ فتنے کا کوئی فتور پیدا ہو بھی رہا تھا تو وہ زائل ہو جائے گا۔اس کے علاوہ ایک ایسی بات ہے جس کا مال سے تعلق ہے جماعت احمدیہ میں بعض فتنے اس وجہ سے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے اخراجات کے طریق پر خوش نہیں ہوتے جن کے سپرد جماعت کی امانت ہوتی ہے۔امیر کے خرچ کے طریق ہے یا دوسرے کا خرچ کا طریق ہے اور خرچ کے معاملہ میں اکثر لوگوں کو یہ علم بھی نہیں کہ خرچ کیسے ہونا چاہئے اور نظام جماعت کس کو کیا اختیار دیتا ہے۔اگر یہ علم ہو تو اس کے نتیجہ میں فتنہ پیدا ہونے کی بجائے بر وقت ایک غلط بات کی اطلاع صحیح آدمی کو پہنچ سکتی ہے مجالس عاملہ کی دو حیثیتیں ہیں۔ایک وہ مجلس عاملہ ہے جو امیر کے تابع ہے اور جماعت میں امیر ایک ایسا لفظ ہے جسے ہر دوسرے منتخب عہدے سے برتری حاصل ہے۔امیر سے مراد یہ ہے کہ خلیفہ وقت نے اپنے جو اختیارات دوسروں کو تفویض کئے ہیں امارت کے عہدے کو