خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 740
خطبات طاہر جلد ۱۰ 740 خطبه جمعه ۱۳ رستمبر ۱۹۹۱ء آج کے خطبہ میں بھی عام روز مرہ کی چند چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا جن پر اگر توجہ نہ دی جائے تو اس کے بسا اوقات بہت خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔عام طور پر مجلس عاملہ میں جو امیر کے تابع ہو یا صدر کے تابع ہو ماحول کی نگرانی اس رنگ میں نہیں کی جاتی کہ بدمزہ باتیں، بدخلقی کی باتیں برداشت کر لی جاتی ہیں حالانکہ وہی فتنوں کا آغاز ہے جس مجلس عاملہ میں باہمی محبت کا رنگ نہیں ، اخوت کا رنگ نہیں ،تقویٰ کے ساتھ بات کرنے کی عادت نہیں وہ ایسی سرزمین ہے جہاں فتنے ہمیشہ پرورش پاسکتے ہیں۔ان روز مرہ کی باتوں میں ایک بات ایسی ہے جو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ یہ کہ مجلس عاملہ کے بعض ممبران بسا اوقات ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور بعض دوسرے ممبران آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔اس کا نام گروہ بندی نہیں ہے فطرتا انسان بعض انسانوں کے زیادہ قریب ہوتا ہے بعض انسانوں سے دور ہوتا ہے۔مزاج کے بہت اختلافات ہیں اس لئے طبعا چند آدمیوں کا ہم خیال ہونا یا ایک دوسرے سے تعلق میں بڑھتے چلے جانا یہ قابل اعتراض بات نہیں لیکن مجلس عاملہ میں جب معاملات زیر بحث آتے ہیں اس وقت ہم خیال دوستوں کا ہمیشہ اس وجہ سے ایک دوسرے کی تائید کرنا کہ ہم ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور ایک ہی تعلق والا گروہ ہے یہ بہت ہی بڑا فتنہ ہے۔یہ تقویٰ کے خلاف بات ہے اور بہت سے فتنے اسی لاعلمی اور حماقت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ایک دوسرے کے تعلق والے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات کی تائید کریں حالانکہ مجلس عاملہ ہو یا کوئی اور مشورے کی بات ہو خواہ کہیں ہو رہی ہوں وہاں آنحضرت ﷺ نے ہر مشورہ دینے والے کو امین فرمایا ہے اور لفظ امین میں بہت بڑی حکمت کا راز پوشیدہ کر دیا۔پوشیدہ تو اس لئے کہ بعض نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے ورنہ حقیقت میں تو لفظ امین میں بڑا کھلا کھلا پیغام ہے جو بات نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ امین خدا اور رسول کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں، امانت کی نگہداشت کرنے کے لئے مقرر ہوئے ہیں اور اگر کبھی مشورہ ہو تو مشورہ دینے والے کو ہمیشہ پہلے یہ خیال رکھنا چاہئے کہ میں خدا کی طرف سے امین مقرر ہوا ہوں اور سچائی کی امانت اس کے سپرد ہے عدل کی امانت اس کے سپرد ہے اس میں خیانت نہیں ہونی چاہئے۔پس خواہ کوئی کیسا ہی تعلق والا کیوں نہ ہو۔کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہوا گر صدق دل سے انسان یہ سمجھتا ہو کہ اس کی بات میں وزن نہیں