خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد ۱۰ 736 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء پہنچا ئیں۔میں اس کو پوری نہ کروں اور آپ اپنے آپ کو سچا سمجھیں تو خدا کے دربار میں میری شکایت کریں۔آپ کی حدیں تو وہاں تک پہنچتی ہیں جہاں کسی دنیا والے کی حد نہیں پہنچتی۔خدا تک آپ کے سوا اور کون پہنچ سکتا ہے کیونکہ آپ خدا کی جماعت ہیں، خدا کی خاطر اطاعت کرنے والے ہیں۔اس لئے اس نظام میں جو ایسا پاکیزہ الہی نظام ہے دنیا داری کی باتیں تو پہنپ سکتی ہی نہیں، نہ پنپنے دی جائیں گی۔میں پھر آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان باتوں میں اپنی اصلاح کریں۔تقویٰ سے کام لیں کیونکہ جیسا کہ میں نے اب شروع کیا ہے یہ باتیں عام خطبوں میں اس لئے میں بیان کر رہا ہوں کہ ساری دنیا کی جماعتوں کو پتہ چلے کہ تربیتی مسائل کیا ہیں؟ اور کن کن اطراف سے انہیں خطرے درپیش ہیں، وہ متنبہ ہو جائیں اور اگر یہ باتیں سننے کے باوجود ان کے عہدے داران تقویٰ سے کام نہ لیں اور خلیفہ وقت کی ہدایات پر عمل نہ کریں یا ان سے ناجائز سلوک کریں، زیادتی کریں تو میں حاضر ہوں جتنا بوجھ چاہیں مجھ پر ڈالتے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہے جو بوجھ اٹھانے کی توفیق بخشتا ہے اور اپنے فضل سے توفیق بڑھاتا چلا جاتا ہے اس لئے اس بات کی بالکل پرواہ نہ کریں۔میرا بوجھ تو وہ بوجھ ہے کہ مجھے علم نہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے۔کسی ملک میں جاؤں تو وہاں کے بچے اٹھ اٹھ کے شکائیتیں کریں کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ہماری طرف بھی تو توجہ کریں۔ہم بھی حق رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ تقویٰ کی باریک راہوں پر محافظ اور نگران ہو جائیں۔شیطان باریک راہوں سے داخل ہوتا ہے یعنی متقیوں پر حملے کرنے کیلئے شیطان ہمیشہ باریک سے باریک راہ سے داخل ہوتا ہے تا کہ وہ نظر نہ آئے۔جو غیر متقی موٹے موٹے عام لوگ ہیں ان پر تو وہ کھلے کھلے حملے کرتا ہے اور پھر بھی ان کو نظر نہیں آتا۔مگر یہ خیال چھوڑ دیں کہ آپ کی روحانی ترقیات کے مسائل ایک دفعہ حل ہو چکے اور آپ نے ساری منازل طے کرلیں۔کوئی دنیا میں نہیں ہے جو ساری منازل طے کر سکے۔انجیل کا مطالعہ کر کے دیکھیں شیطان نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی دھوکا دینے کی کوشش کی جو خدا کی طرف سے سب سے اعلیٰ منصب پر یعنی نبوت کے منصب پر فائز فرمائے گئے تھے۔بھیس بدل کر ان کا بھی امتحان لینے کی کوشش کی۔حضرت ایوب علیہ السلام کے بھی امتحان لینے کی کوشش کی لیکن وہ ایسے نیکوں اور متقیوں پر بہت باریک راہوں سے حملے کرتا ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ ان کو نور بصیرت عطا فرما چکا ہوتا ہے وہ خدا کے نور سے دیکھتے ہیں اس لئے ان باریک راہوں پر وہ