خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد ۱۰ 730 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء نہیں کہی اس وقت تک خدا کے فرشتے شاید اس کو ڈکٹیٹر کہتے ہوں۔اس لئے کہ وہ ظلم کر رہا ہے۔ان معنوں میں ڈکٹیر کہا جا سکتا ہو گا لیکن جب کہنے والے نے کہہ دیا تو پھر یہ آسمان کی آواز بند ہوگئی۔اگر اس شخص کو پہنچنے والی تکلیف مجھے معلوم ہوتی تو میں اس کی تائید میں کھڑا ہوتا، اس کے دل کی تکلیف میرے دل کی تکلیف بن جاتی ، میں اس کی طرف سے باز پرس کرتا اور بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ اگر کسی عہدے دار کو توفیق نہیں ہے کہ وہ جھک کر معافی مانگے تو اس کی طرف سے میں جھک کر معافی مانگتا ہوں اور جس کو تکلیف پہنچی ہے اسے کہتا ہوں کہ اصل ذمہ دار میں ہوں۔میرے ماتحت شخص نے یہ حرکت کی ہے اور میر افرض ہے کہ تم سے دل کے ساتھ معافی مانگی جائے۔اگر یہ نہیں مانگتا تو میں مانگتا ہوں اور اس سے دلوں کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔پس نظام جماعت تو ایک لا ثانی نظام ہے اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ہے۔اس کو چھوٹی ادنی ادنی باتوں سے ذلیل ورسوا نہ کریں۔اگر آپ نے اس نظام کی قدر نہ کی تو یہ سوچیں کہ یہ نظام پہلے بھی ایک دفعہ ناقدری کے نتیجے میں اٹھالیا گیا تھا اب دوبارہ خدا نے آپ کو نعمت دی ہے اور الحمد للہ اس وعدہ کے ساتھ دی ہے کہ یہ نظام اب ہمیشہ رہے گا مگر نا قدری کرنے والوں کو سزا ضرور ملے گی اس لئے احتیاط سے کام لیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔آپ کو نظام جماعت کے تابع رہتے ہوئے امیر ہی کا سوال نہیں کسی بھی عہدیدار سے کوئی شکایت ہو تو وہ مجھے لکھ سکتا ہے۔خواہ وہ چھوٹا عہد یدار ہو خواہ وہ بڑا عہدیدار ہو اور میں جماعت کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میرے بوجھ کی فکر نہ کریں۔اگر مجھ تک تکلیف دہ باتیں نہ پہنچیں تو مجھے تکلیف ہوگی لیکن ہوں سچی یہ شرط ہے اگر تقویٰ کے خلاف کوئی جھوٹی باتیں پہنچیں گی تو پھر لازماً ایسے شخص کو سزادی جائے گی۔وہ دہرا جرم کرتا ہے۔خلیفہ وقت کو دھوکا دیتا ہے اور خدا کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔سچی شکایت ہو۔سچے طریق پر پہنچے جس کے خلاف شکایت ہے اس کی معرفت بھجوائی جائے اس کی نقل مجھے بھجوا دی جائے۔پھر دیکھیں لازماً کارروائی ہوگی لیکن کارروائی وہ ہوگی جو تقویٰ تقاضا کرتا ہے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حق میں ضرور ہوگی حالانکہ بالکل غلط بات ہے۔بعض دفعہ ایسے ایسے ظالمانہ الزام عہدیداروں پر لگائے جاتے ہیں کہ پہلا خط پڑھ کر تو پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے کہ اچھا جماعت میں ایسے ایسے خوفناک عہدیدار بھی ہیں۔جب