خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 729

خطبات طاہر جلد ۱۰ 729 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء میں مصروف ہوتی ہے وہ گھر گھر پھرتا ہے، دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور رات کو اپنے حساب کتاب لے کر بیٹھ جاتا ہے۔بعض کے بیوی بچے مجھے شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی تو اس کا کچھ رہنے دیں۔یہ تو دن رات جماعت کے کاموں میں ہے۔بعض ایسے امراء ہیں جن کے بیوی بچے مجھے بتاتے ہیں کہ مدتیں ہوگئی ہیں ہمارے بچوں نے ان کو نہیں دیکھا۔رات کو کام کر کے دیر سے آتے ہیں صبح جلدی چلے جاتے ہیں اور سوائے نظام جماعت کے ان کا ہے ہی کچھ نہیں۔ہمارے تو کسی کام کے نہیں رہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ وہ ان کے اتنے کام کے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں۔ان کی برکتیں وہ نسل ہی نہیں بلکہ نسلاً بعد نسل ان کی اولاد پاتی رہے گی اور آسمان سے یہ برکتیں بارش کی طرح ان پر نازل ہوں گی ایسے وفاداروں کو خدا کبھی تنہا نہیں چھوڑا کرتا کبھی بے جزا کے نہیں چھوڑا کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بچوں کو اکٹھا کیا اور کہا دیکھو تم سمجھتے ہو کہ تمہارا باپ تمہارے لئے خالی گھر چھوڑ گیا ہے کبھی یہ و ہم دل میں نہ لانا، یہ وہ گھر ہے جس پر ہمیشہ برکتیں برستی رہیں گی۔تم پر تمہاری اولادوں پر تمہاری اولادوں کی اولادوں پر اس گھر میں دعاؤں کے ایسے خزانے بھر گیا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔تو نظر کی بات ہے، دیکھنے کی بات ہے جن نظروں کو خدا تعالیٰ نے نور عطا کیا ہوان کو یہ برکتیں دکھائی دیتی ہیں مگر بعضوں کو نہیں دکھائی دیتیں۔کسی نہ کسی حد تک شکوہ واجب بھی ہے۔چنانچہ بعض دفعہ میں حکماً ایسے عہدے داران کو کہتا ہوں کہ تم اتنی دیر کے لئے کام سے الگ ہو جاؤ یاز بر دستی چھٹی دلوا تا ہوں۔بعضوں کو میں نے یہ کہہ کر رخصت پر بھجوایا کہ تم اتنی دیر اپنے خاندان کو لے کر کسی اچھے خوبصورت مقام پر جاؤ اور ان کے ساتھ کچھ دن زندگی بسر کرو اور تمہیں یہ حکم ہے تم اس کا انکار نہیں کر سکتے اور جماعت کو جو ایسا خلافت سے تعلق ہے اس میں کوئی یہ تو نہیں کہتا کہ آپ یہ حکم دینے والے کون ہوتے ہیں۔آپ دین کی باتیں کریں، آپ کو ہماری ذات سے کیا تعلق ؟ ہر شخص جس سے میں ایسی بات کرتا ہوں۔مجھے علم ہوتا ہے کہ اس کا مجھ سے ایک ایسا تعلق ہے کہ باپ بیٹے کو حکم دے سکتا ہے تو اس سے بڑھ کر وہ میرے حکم کو قبول کرے گا اور یہ تعلقات اور معمول کے تعلقات اور نوع کے تعلقات ہیں ، دنیا کو ان کی خبر ہی کوئی نہیں۔ایسے حالات میں ایک امیر کو یہ طعنہ دے دینا کہ تم ڈکٹیٹر ہو، نہایت لغو بات ہے ایک دل کا غصہ اتارنے والی بات ہے۔اگر امیر نے کوئی ظلم کیا تھا تو جب تک یہ بات