خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد ۱۰ 726 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء کر دیں گے اور تمہارے سامنے تو کہنے کی جرات نہیں لیکن تمہارے پیچھے ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں اور بعض امیر اپنی بے وقوفی میں ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلتے اور بے وجہ بجائے فتنے کو دبانے کے فتنے کو ہواد ینے کا موجب بن جاتے ہیں اس لئے اس بات سے میں انکار نہیں کر رہا کہ امیر غلطی نہیں کر سکتا۔امیر غلطی کر سکتا ہے۔بہت سے امراء ہیں جن کو اپنے عہدوں سے معزول کیا گیا ہے ان کے او پر کمیشن بٹھائے گئے ان کی نگرانی کی گئی، کئی قسم کی غلطیاں انسان کو لاحق ہیں۔امارت کے نظام کا طریق یہ ہے کہ جماعت اپنے طور پر حسب توفیق جس کو سب سے اچھا متقی اور پرہیز گار سمجھے اسی کو امیر چنتی ہے لیکن جہاں جماعت میں انتخاب کی صلاحیت پوری نہ ہو جہان جماعت میں خود تقویٰ کا معیار بعض جگہوں پر گرا ہوا ہو، جہاں جتھے بن رہے ہوں ،خاندانی پارٹیاں بنی ہوئی ہوں وہاں اکثر اوقات امیر کے انتخاب میں غلطی ہو جاتی ہے اور جب ایک دفعہ غلطی ہو تو پھر جماعت کو اس کے نقصانات پہنچتے رہتے ہیں۔اسی لئے نظام جماعت میں خلیفہ وقت کو آخری اختیار ہے کہ جس انتخاب کو چاہے رد کر دے لیکن بعض دفعہ اس امیر کی غلطیاں یا جماعت کی غلطیاں فوری طور پر سامنے نہیں آتیں کچھ وقت لگتا ہے اور ایسے موقعوں پر اقدام کیا جاتا ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ امیر غلطی نہیں کر سکتا۔اس لئے میں امارت کا ساتھ دے رہا ہوں۔اس مضمون کو سمجھانے کی ضرورت ہے میں ان معنوں میں امارت کا ساتھ دیتا ہوں کہ جب تک کوئی امیر مقرر ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے فرمان کے مطابق لازما اس کے ساتھ اطاعت کا تعلق رکھنا ہو گا۔لازماً ہر اس شخص سے بیزاری کا اظہار کرنا ہوگا جو امیر کی اطاعت کے خلاف باتیں کرتا ہے یا اس کے خلاف دل بھرتا ہے۔رہا یہ معاملہ کہ امیر سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ان کا علاج اور ہے ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ایک بیماری کو دور کرنے کے لئے سو بیماریاں پھیلا دی جائیں۔بعض لوگ امیر کے متعلق جب یہ سنتے ہیں کہ اطاعت کرو اور جب بھی کہے جو کچھ کہے اگر وہ نظام جماعت کے اندر ہے، معروف کے خلاف بات نہیں تو اپنی نفرتوں کو بھلا کر بھی اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو پھر ڈکٹیٹر شپ ہوئی۔اور بعض جماعتوں میں جب امیر کے ساتھ اختلاف ہوئے خواہ وہ غلطی امیر کی بھی ہو۔بعض لوگوں نے امراء سے بڑی سختی کی اور ان کو بار بار دکثیر ، ڈکٹیٹر ، ڈکٹیٹر کے طعنے دیئے۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔