خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد ۱۰ 714 خطبه جمعه۳۰/اگست ۱۹۹۱ء جاتا ہے تو اس کے ساتھ محبت اور ادب کا تعلق قائم کرنا ضروری ہے ورنہ اگر آپ اس کو اپنے سے حقیر سمجھتے رہیں بظاہر اطاعت بھی کریں گے تب بھی آپ کے لئے ہمیشہ کے لئے خطرہ موجود رہے گا۔آپ ٹھو کر کھا سکتے ہیں۔آنحضرت مہ نے اس مضمون کو اتنی وضاحت کے ساتھ کھول کر بار بار پیش فرمایا کہ ایک موقعہ پر فرمایا کہ دیکھو تمہارے اوپر اگر ایک ایسا امیر بھی مقرر کیا جائے جو حبشی ہو یعنی عربوں کو اپنی قومیت پر ناز تھا اور ایک حبشی شخص کے متعلق کہ وہ آکر ان کا امیر بن جائے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے مثال کیسی عمدہ دی ہے کہ ان کے لئے کراہت کا سب سے بڑا سامان رکھتی تھی فرمایا۔حبشی ہو اور غلام ہو اور عربوں کے لئے غلام کی اطاعت کرنا تو ایک نا قابل تصور بات تھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور سخت اس سے تنافر پایا جاتا تھا پھر ان کو اپنی سرداریوں اور عقلوں پر بڑا ناز تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا سر منقے کے برابر ہو۔یعنی خشک کئے ہوئے کشمش کے دانے جتنا سر ہو اتنا بے وقوف پاگل ہو۔( بخاری کتاب الاحکام حدیث نمبر :۶۶۰۹) اگر ایسا امیر بھی تم پر مقرر کیا جائے تو ہم پر فرض کہ اس کی اطاعت کرو۔یہ ہے اسلام کی امارت کی روح اور اطاعت کی روح جس کو حضرت اقدس محمد مصطف مع الله نے خوب کھول کھول کر بیان فرما دیا اور قرآن کریم نے بھی آپ کے ان حقوق کی خوب حفاظت فرمائی ہے جو باتیں مختلف وقتوں میں شیطان آنحضرت ﷺ کے غلاموں کو بددل کرنے کے لئے پھیلاتے رہتے تھے قرآن نے ان سب کی تاریخ محفوظ کر دی ہے اور فتنہ کے ہر پہلو بیان فرمائے ہیں ایک بھی ایسا دنیا میں فتنہ نہیں جوان پہلؤوں سے باہر ہو۔پس مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی خبر داری کے باوجود، تنبیہ کے باوجود دوبارہ ٹھوکر کھانا حد سے زیادہ جہالت اور خود کشی کے مترادف ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ بعض دفعہ لوگ اس طرح فتنہ پیدا کرتے ہیں۔ہے تو وہی بات کہ نچلے آدمی کے خلاف اوپر کے خلاف براہ راست نہیں کرتے قرآن کریم کے مطابق اوپر کو اس طرح ملوث کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ دیکھو رسول اللہ نے خود تو بڑے زیرک بڑے باشعور بڑے صاحب فہم انسان ہیں مگر یہ بد بخت جو مشورے دینے والے ہیں۔یہ مصیبت ہیں اور آپ کی کمزوری یہ ہے کہ اُذُنُ ہیں۔لوگوں کی باتیں سنتے رہتے ہیں اور جو کسی نے کہا اس کو مان لیا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے کہدے کہ أُذُنَ خَيْرٍ لَّكُمْ (التوبہ (۶۲) کہ یہ وجود ایسا ہے جو ہر ایک کی بات سنتا