خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 713
خطبات طاہر جلد ۱۰ 713 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء کہ اے خدا میں تجھے تسلیم نہیں کرتا یا میں تیری عظمت کو دھتکارتا ہوں اور اس کا انکار کرتا ہوں۔یہ کہا کہ جس کو تو نے امیر بنایا ہے یہ تو مجھ سے چھوٹا اور بے معنی ہے۔میرے مقابل پر اس کی کوئی حیثیت نہیں آنا خَيْرٌ مِّنْهُ (ص:۷۷) کتنی گہری حکمت کی بات ہے ہزار ہا سال گزر چکے آغاز مذہب کی یہی حکایت ہمیشہ دہرائی جاتی ہے اور جو جاہل انسان ہے اس کو سمجھ نہیں آتی جس کی آنکھوں میں بصیرت نہیں ہے وہ باہر کے نور سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور ہمیشہ جماعت میں جب فتنے پیدا ہوئے وہ اسی طرح ہوئے ہیں۔کہا یہ جاتا ہے کہ بالا افسر وہ تو ٹھیک ہے۔ہماری سر آنکھوں پر مگر یہ جو جھوٹا ہے نا ! شیطان۔اس کی ہم بات نہیں مانیں گے۔اگر وہ واقعہ شیطان ہے نا اہل ہے تو تمہارا فرض ہے کہ ادب کے ساتھ بالا ہستی جو بھی ہے۔امیر ہے یا اس سے او پر خلیفہ ایسے ہیں ان کی خدمت میں لکھو کہ جس وقت تک آپ اس امیر کو بنائے رکھیں گے ہم ضرور اس کی اطاعت کریں گے لیکن ہماری درخواست یہ ہے کہ یہ بحیثیت امیر آپ کے شایان شان نہیں ہے۔نظام جماعت کے اوپر دھبہ ڈال رہا ہے فلاں غلطی کر رہا ہے۔یہاں تک لکھنا ہرگز نہ گستاخی ہے نہ ابلیسیت ہے لیکن یہ بات کہے بغیر یہ کوشش کئے بغیر انکار کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے لینا اور یہ کہہ دینا کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کریں گے۔یہ ہے ابلیسیت جس کا ذکر قرآن کریم کے آغاز میں ہوا اور بار بار اس کہانی کو دہرا کر ہمیں نصیحت فرمائی گئی کہ دیکھو فتنے اس طرح اٹھا کرتے ہیں۔جب بھی آئندہ فتنے اٹھیں گے اسی طرح اٹھیں گے اور جہاں تک میں نے وسیع نظر ڈالی ہے۔اپنی زندگی کے سارے تجربہ پر میں نظر ڈال کر آپ کو یقین سے کہتا ہوں کہ قرآن کریم کا بیان کردہ فتنوں کا اسلوب اسی طرح دہرایا جاتا ہے، اسی طرح نفس دھوکا دیتا ہے، اسی کا نام تقویٰ کی کمی ہے۔یہ انا نیت ہے جو ابی بن کر پھر اٹھتی ہے اور بغاوت بن جاتی ہے۔پھر ایک اور بات جو ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اطاعت کے ساتھ ادب ضروری ہے صرف اطاعت کافی نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ آواز بھی نہ اونچی کرو وہ لوگ جو اونچی آواز میں کرتے ہیں ان کو پتہ ہی نہیں کہ ایمان کیا ہے وہ اپنے ایمان کھو دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سچی اطاعت ادب کے بغیر ممکن نہیں ہے وہ کھو کھلی رسمی اطاعت کوئی حیثیت نہیں رکھتی جو ہمیشہ اطاعت کرنے والے کے لئے خطرہ بنی رہتی ہے۔پس جب امیر مقرر کیا