خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 709
خطبات طاہر جلد ۱۰ 709 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء کو روک دیجئے اپنا ایک حق محفوظ رکھا گویا خلیفہ وقت اس پر بعد میں تبصرہ کرے گا اور تبصرہ کا انداز بھی بلا شبہ صرف یہ کہ امیر سے بالا ہے بلکہ بعض باتوں میں خلیفہ وقت سے بھی ممتاز ہے اور اس تبصرے کے دوران آپ فرماتے ہیں کہ فلاں نام کی خاتون قادیان کی پرورش یافتہ ہیں ان کی تقریر تو بہت عمدہ تھی اور میں یہ مشورہ دیتا ہوں صدر صاحبہ لجنہ کو ایسی عمدہ تربیت یافتہ خواتین سے ہدایتیں لیا کریں اور ان کی ہدایت اور ان کے ارشادات اور ان کے تابع اور ان کے تجارب سے فائدہ اٹھا کر لجنہ کے کام چلائیں _ انا لله وانا اليه راجعون۔خلیفہ وقت کسی کو صدر مقرر کرتا ہے اور نائب امیر اٹھ کر اپنی مربیانہ حیثیت کو بالکل غلط استعمال کرتے ہوئے یہ مشورے دے رہا ہے اور ایک خاتون کا نام لے کر اس طرح تعریف کرتا ہے جس طرح خلیفہ وقت بعض اچھے کارکنوں کی نمایاں طور پر تعریف کر دیا کرتا ہے لیکن کبھی ناممکن ہے کہ کوئی خلیفہ وقت یہ کہے کہ میں نے جس کو صدر مقرر کیا ہے کوئی فرد جماعت اس سے بالا ہے اور صدر کا فرض ہے کہ عہد یداران سے ہٹ کر میری ہدایت سے الگ ہوکر فلاں کی متابعت کرے اور اس سے سبق سیکھے۔گویا میری مقرر کردہ صدارت کو بھی کینسل کر دیا اور اپنی طرف سے جس طرح آپ امیر بالائے امیر بن گئے تھے ایک صدر بالائے صدر مقرر فرما دیا۔نہایت ہی بے ہودہ حرکت تھی مگر وہی بات ہوئی جو ایک ہدایت کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں ہونی چاہئے تھی۔اردو میں باتیں ہورہی تھیں۔ترجمہ اگر ہو بھی رہا تھا تو پتا نہیں کس قسم کا تھا۔مگر امیر صاحب کو اس وقت پتا نہیں لگا کہ کیا ہوا ہے بعد میں امیر صاحب کو جب رپورٹیں ملیں اس پر مجلس عاملہ پر گفتگو شروع ہوئی۔مجلس عاملہ میں جو رویہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس سے بھی زیادہ نا پسندیدہ اور نا پاک رویہ تھا۔ایک اور بات بھی ایسی تھی جو انہوں نے کی جس پر امیر صاحب نے ان کی باز پرس کی۔وہ ی تھی کہ اپنی طرف سے یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ جماعت جرمنی ہر جمعرات کو اس غرض سے روزہ رکھے کہ سوسالہ مساجد کی تعمیر میں ان روزوں میں خاص دعائیں مانگی جائیں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ایک تحریک فرمائی تھی کہ مہینے میں ایک دفعہ آخری جمعرات کو روزے رکھے جائیں اور وہ صد سالہ جو بلی کی کامیابی کے سلسلہ میں تھی اس کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی کسی امیر نے اپنے طور پر ایسی تحریک کی ہو۔میں نے کبھی نہیں کی کیونکہ بعض دفعہ ان چیزوں کو بھی رفتہ رفتہ ایک دکھاوا