خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 708

خطبات طاہر جلد ۱۰ 708 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء اور شخص نہ سمجھ سکتا ہے نہ اس میں دخل دینے کا اس کو حق ہے لیکن اس سے الگ ایک، حضرت مصلح موعودؓ کا بھی انداز تھا اور وہ آپ کی ذات پر ہی پھبتا تھا۔مجھے تو آج تک یاد نہیں کبھی میں نے اس رنگ میں اپنا خطاب اپنی صحت کے ذکر سے شروع کیا ہو کہ احباب جماعت کو فکر ہوگی کہ میری حالت کیسی ہے اس لئے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ چند دنوں سے طبیعت علیل رہی ہے اور پھر یہ یہ کچھ واقعات ہوئے اور پھر یہ ہوا۔یہ خاص انداز تھا حضرت مصلح موعود کا جس کو جماعت بہت پسند بھی کیا کرتی تھی اور شوق سے سنا کرتی تھی لیکن اس کے بعد نہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے کبھی ایسا کیا نہ میں نے کیا بلکہ ہمیشہ شرم محسوس کی کہ جماعت کے وقت میں سے اپنی ذاتی گفتگو کے لئے وقت نکالوں لیکن مجلس شوریٰ میں تو اس کا سوال ہی کوئی نہیں۔اگر صحت کے لئے کوئی اعلان کروانا ہو تو ہر احمدی کا حق ہے۔اعلان کروائے جاتے ہیں لیکن وہ جلسوں میں کروائے جاتے ہیں۔شوریٰ میں بھی اگر کروانا ہو تو محض ایک درخواست ہے جو کوئی شخص امیر کی نمائندگی میں پڑھ کر سنادے گالیکن اس کا ایک پہلا حصہ اس بات پر ہی مشتمل تھا اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں صدر لجنہ کے متعلق کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں اور اس بات کو میں نے اپنے اختتامی خطاب کے لئے اٹھارکھا تھا۔اس بات سے قطع نظر کہ صدر لجنہ نے کوئی غلط بات کہی تھی یا نہیں کہی تھی اس حصہ کو میں الگ لوں گا۔آپ کو یا درکھنا چاہئے کہ مجلس شوری میں جب کوئی شخص ناجائز بات کہتا ہے۔اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے بات کہتا ہے تو ہر ممبر مجلس شوریٰ کا حق ہے بلکہ فرض ہے کہ وہ ادب سے اٹھ کر ، امیر اجازت دے تو اس کو متوجہ کرے، ہاتھ اٹھائے ،امیر کے سامنے آئے اس سے عرض کرے کہ میرے نزدیک یہ نظام سلسلہ کی خلاف ورزی ہے اور ایسی نا پسندیدہ باتیں مجلس شوریٰ میں نہیں ہونی چاہئیں یہاں ان کا تعلق نہیں۔یہ حق ہے لیکن اگر امیر نہیں سنتا یا انکار کر دیتا ہے تو پھر ہرگز کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس بارہ میں زبان کھولے۔ہاں بعد ازاں وہ امیر کی معرفت خلیفتہ اسیح کو متوجہ کر اسکتا ہے کہ ہماری شوری میں یہ بات ہوئی ہے۔میرے نزدیک روایات سلسلہ کے منافی ہے۔اگر میں درست ہوں تو پھر امیر کو ہدایت کی جائے کہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔اگر میں غلط ہوں تو میری اصلاح کی جائے۔یہ ایک مود بانه درست، متقیانہ طریق ہے لیکن اس موقع پر جن صاحب کا میں ذکر کر رہا ہوں انہوں نے بجائے اس کے کہ امیر صاحب سے مؤدبانہ درخواست کرتے کہ یہ غلط باتیں ہورہی ہیں آپ ان