خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد ۱۰ 707 خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۹۱ء رابطہ کیا اور اس کو کہا کہ وہ امیر صاحب کو یہ کہے کہ آپ کی طرف سے اجازت تو نہیں ملی لیکن میں ضرور اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اب سیکرٹری مجلس شوری کو شوری کا کوئی ممبر براہ راست کہہ ہی نہیں سکتا اس کا تعلق ہی کوئی نہیں صدر مجلس جو ہے اس کے ساتھ ہر شخص کا تعلق ہوتا ہے۔سیکرٹری مجلس شوری تو صدر مجلس کے ماتحت ایک کارکن ہے اس سے زیادہ اس کی وہاں کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن بہر حال فون کے ذریعہ جبکہ خود نائب امیر تھے اگر کوئی اصرار کرنا تھا تو اصرار نہیں کرنا چاہئے تھا۔بالکل نا جائز تھا تو براہ راست بات کر سکتے تھے۔امیر صاحب نے اس کے باوجود اجازت نہیں دی جو بہت اچھا کیا اور درست کیا لیکن اس عرصہ میں یہ کافی ایسی نامناسب باتیں کہہ چکے تھے جو روایات سلسلہ کے سراسر منافی تھا۔پھر دوسری تعجب انگیز بات میرے سامنے یہ آئی کہ اختتامی خطاب بجائے امیر کے نائب امیر کا ہورہا ہے اور میری واضح ہدایات کے خلاف مجلس شوری کی کارروائی اردو میں ہو رہی ہے حالانکہ میں نے بارہا تاکید کی ہے۔مجلس شوریٰ تو ایک بہت ہی اہم Institution ہے۔نظام جماعت کا ایک ایسا اہم حصہ ہے، جس کے اوپر میری ہدایات پر سختی سے عمل درآمد ہونا چاہئے۔میری ہدایت ہے کہ جس ملک کی جو زبان ہے، جو ہمارے رسمی اجلاسات ہیں ان میں اسی ملک کی زبان بولی جائے گی اگر کسی کو سمجھ نہیں آتی تو اس کا ترجمہ اس صورت میں ہوگا کہ وہ ایک اہم ممبر ہو اس کی ضرورت ہے اس کا مشورہ درکار ہے مگر وہ مجبور ہے۔ایسا استثناء ہوسکتا ہے اور یہ بھی استثناء ہوسکتا ہے کہ اگر جرمن شوری ہے اور جرمن زبان میں کاروائی ہو رہی ہے تو اس کا اردو ترجمہ کر دیا جائے ان لوگوں کی خاطر جو جرمن پوری طرح نہیں سمجھتے لیکن سمجھنی چاہئے اس ہدایت کوسراسر نظر انداز کرتے ہوئے پوری کارروائی اردو میں ہو رہی تھی۔پھر سلسلہ کی قدیم اور معزز روایات کو ٹھوکر مارتے ہوئے امیر کے آخری خطاب کی بجائے نائب امیر صاحب کا آخری خطاب تھا اور وہ آخری خطاب تو ایسا تھا جس نے رونگٹے کھڑے کر دیئے سب سے پہلے تو مجھے یوں لگا جیسے بعض لوگ تو خلیفہ بنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی انداز بناتے ہیں جو خلافت کا ایک خصوصی حق ہے اور جماعت اس انداز کے ساتھ ایک محبت رکھتی ہے اور اس کو اسی تعلق کی وجہ سے برداشت کرتی ہے اور یہ جماعت اور خلافت کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جسے کوئی۔