خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد ۱۰ 703 خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۹۱ء احتراز ضروری ہے اس کے نتیجہ میں جماعت میں فتنے پیدا ہو سکتے ہیں اگر مجلس عاملہ بھٹی رہے اور افتراق کا نمونہ بنی رہے تو باقی جماعتوں کی تربیت کیسے کرے گی؟ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان باتوں کا کوئی خاص اثر مجلس عاملہ کے بعض ممبروں پر نہیں پڑا۔اس وقت تک میں نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ پوری سختی کے ساتھ اب اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے کچلا جائے گا کیونکہ ان میں سے ہر ممبر اپنی ذات میں اچھا دکھائی دیتا تھا ، بہت خدمتیں کر نیوالا ، بہت ہی بظاہر جماعت کے ساتھ اخلاص اور قربانی کا تعلق رکھنے والا اور ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ میرا قصور نہیں دوسرے کا قصور ہے لیکن جب میں نے خوب کھول کر سارے معاملات ان پر روشن کر دئیے اس کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اگر پھر کوئی ایسی حرکت ہوئی تو محض نصیحت سے کام نہیں لیا جائے گا۔جو میری ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے میں اس کو ہر قیمت پر ادا کروں گا۔اب نئے فتنہ کا آغاز اس طرح ہوا کہ جلسہ سالانہ پر مکرم امیر صاحب جب مجھے ملنے کے لئے آئے تو ان سے میں نے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ کیسی آپ کی امارت چل رہی ہے؟ تو شدت جذبات سے بے قابو ہو گئے اور بہت مشکل سے ضبط کرنے کے بعد مجھے یہ بتا سکے کہ کچھ عرصہ سے حالات ایسے ہوتے چلے آرہے تھے کہ جس کے نتیجہ میں یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے ایک گروہ میرے مقابل پر کھڑا ہے لیکن گزشتہ مجلس عاملہ میں جو مجلس شوری کے بعد ہوئی اس میں میرے نائب امیر نے اور مربی انچارج نے میری نہایت خطرناک بے عزتی کی ہے اور کھلے کھلے لفظوں میں باغیانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے میرے ساتھ بدتمیزی کا سلوک کیا گیا ہے۔اس کا تعلق چونکہ مجلس شوری کی ایک کارروائی سے تھا اس لئے میں نے امیر صاحب سے گزارش کی کہ آپ اس معاملہ کو بالکل دل سے نکال دیں اب یہ میرا کام ہے کہ میں فیصلہ کروں گا۔آپ مجلس عاملہ کی کارروائی کی جو کیسٹ ہے وہ مجھے بھجوائیں تاکہ کسی ایک آدمی کی رپورٹ سے میں کوئی نتیجہ اخذ نہ کروں۔میں اس کارروائی کے متعلقہ حصوں کوسنوں گا اور پھر براہ راست نتیجہ نکالوں گا۔اس کے علاوہ میں نے ان سے یہ گزارش کی کہ چونکہ مجلس عاملہ کی کارروائی ریکارڈ نہیں ہوئی یعنی Audio ریکارڈ نہیں ہوئی ، آواز کو محفوظ نہیں کیا گیا اس لئے آپ اس کے متعلق مجھے اپنی تفصیلی رپورٹ لکھ کر دیں۔ان کی رپورٹ آنے کے بعد میں نے مربی انچارج کو اس رپورٹ کی نقل بھجوائی اور ان سے پوچھا کہ مجھے یہ بتائیے کہ اس رپورٹ میں