خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 702
خطبات طاہر جلد ۱۰ 702 خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۹۱ء اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسے معاملات ہیں کہ ساری جماعت کے علم میں آنے چاہئیں اور ساری جماعت کو معلوم ہونا چاہئے کہ فتنہ کیا ہے؟ کس طرح پلتا ہے کس طرح سراٹھاتا ہے اور کس طرح بعض دفعہ بڑے بڑے متقی نظر آنے والے انسان خود اپنے نفس کے دھوکوں میں مبتلا ہوکر ساری جماعت کے لئے ایک ابتلا بن جاتے ہیں اور شیطان کے لئے ایک آلہ کار بن جاتے ہیں۔بعض ایسے شخص عمد أبالا رادہ بھی ایسی شرارت کرتے ہیں مگر وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں شاذ کے طور پر کہیں ہوں گے لیکن بہت سے ایسے ہیں جو اپنی بے وقوفی کے نتیجہ میں آنکھیں بند کرنے کے نتیجہ میں ، تقویٰ کی کمی کے نتیجہ میں ایسی غلطیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں اور مستقلاً میرے لئے جماعت کی خاطر ایک پریشانی پیدا کرتے رہتے ہیں۔آج کے خطبہ میں جماعت احمدیہ جرمنی سے متعلق میں بعض باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اکثر آپ احباب کے علم میں نہیں ہیں۔ایک لمبے عرصہ سے میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ آپ کی مجلس عاملہ اپنے امیر کا پوری طرح احترام نہیں کرتی اور اس میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ایک دوسرے کو حقارت سے دیکھتے اور ایک دوسرے کی تذلیل کرنے کی کوشش کرتے اور امیر کی عزت اور احترام کا خیال رکھے بغیر مجلس میں اس قسم کی آزادانہ باتیں کرتے ہیں جو یقینا بد تمیزی پر منتج ہو جاتی ہیں۔ایک ایسی ہستی موجود ہو جس کے دل میں ادب اور احترام ہو جو نظام جماعت کی نمائندہ ہواس کے سامنے اونچی آواز کرنا ہی بد تمیزی ہے کجا یہ کہ بغیر اس کی اجازت کے آپس میں گفتگو شروع کر دیں۔ایک دوسرے کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں، ایک دوسرے پر بدظنیاں کریں اور مجالس عاملہ کے وقار کو مجروح کر دیں۔اس قسم کی شکایات معین طور پر مجھے نہیں پہنچیں مگر بسا اوقات جب میں نے امیر صاحب سے حال پوچھا تو وہ چونکہ بہت ہی نیک مزاج، سادہ ، شریف النفس انسان ہیں ، شکایت کے عادی نہیں مگر بڑے درد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ شاید مجھے تجر بہ نہیں شاید میں لاعلمی کی وجہ سے مجلس عاملہ کو سنبھال نہیں سکتا اور ایسے ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ چند سال کے عرصہ میں کم از کم دو مرتبہ میں اس مجلس عاملہ کے ساتھ بیٹھا اور بڑی تفصیل کے ساتھ ان کو سمجھایا کہ کیا بات غلط ہے کیا درست ہے؟ کیا آپ نے نہیں کرنی اور کیا بات کرنی چاہئے اور اس معاملہ میں امیر کے وقار کو جماعت میں قائم کرنے کے لئے آپ کو مددگار ہونا چاہئے۔کن چھوٹی چھوٹی کمینی باتوں سے