خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد ۱۰ 694 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير (التحریم: ۹) یہ دعا کرتے رہو ہمیشہ کہ اے خدا ہمارا نور مکمل کرتا چلا جا کیونکہ تقویٰ کی عام راہیں تو روشن ہیں ان پر غلط قدم وہی اٹھاتا ہے جو غیر متقی اور شریر اور عمداً گناہ کرنے والا ہو لیکن جو باریک راہیں ہیں وہاں بعض دفعہ روشنی کی کمی کی وجہ سے، لاعلمی کے نتیجہ میں انسان غیر متقیانہ بات کر جاتا ہے اور اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ میں نے کی ہے۔چنانچہ جو مثال میں دے رہا ہوں اس میں بعینہ یہی بات ہے۔میں جانتا ہوں ان لوگوں کو جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔خدا کے فضل سے دین کے معاملے میں بڑی غیرت دکھانے والے، تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز ، یعنی کھلے کھلے تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر فائز، نمازی، پرہیز گار، دعا گو، سلسلے کی خاطر مالی قربانی کرنے والے اور اپنا وقت دینے والے لیکن ایک چھوٹی سی بات میں اپنی لاعلمی میں یا روشنی کی کمی کی وجہ سے ٹھوکر کھا گئے۔اب یہ بات ایک ٹائم بم کے طور پر وہاں پڑی رہ گئی یعنی ایسے آتش فشاں مادے کے طور پر جس کی آتش فشانی کیفیت موجود ہے اگر چہ وہ پھٹا نہیں۔بعد ازاں ان دونوں کا کسی معاملے میں اختلاف ہو جاتا ہے۔امیر کا اور اُس کا کسی معاملے میں خواہ وہ جماعتی ہو یا ذاتی ہو اختلاف ہو سکتا ہے اور وہ جو پرانا ٹائم بم امیر صاحب کے دل میں محفوظ تھا اس کی یاد میں محفوظ تھا وہ اس شخص تک پہنچادیتے ہیں جس شخص کے متعلق یہ بات ہوئی تھی۔اب ایسے موقع پر اس امیر کی صلى الله مثال بعینہ وہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی کہ تیر چلایا تھا جس پر چلایا تھا اس کے قدموں میں آ گرا اور اس کو نقصان نہیں پہنچا اور کسی پاس کھڑے ہوئے آدمی نے وہ تیرا ٹھایا اور اس کے سینے میں گھونپ دیا اور اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گیا۔بہت سخت اشتعال پیدا ہوا۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آغاز کس بات سے ہوا تھا ؟ جس بات کا آغاز تقویٰ سے ہوا ہو اس کے نتیجے میں یہ بدیاں نہیں پیدا ہوا کرتیں اس لئے یہ بحث فضول ہے کہ کس کا قصور ہے اور کس کا نہیں ہے؟ ایسے معاملات میں دونوں کا قصور ہے۔جس نے بات کی اور اس وقت کھول کر انہیں بیان نہیں کیا کہ میری نیت یہ ہے اور یا اس بات کو بیان کرنے سے پہلے خود اس صاحب تک پہنچ کر یہ بیان نہیں کیا کہ مجھ تک بات پہنچی ہے، مجھے صدمہ پہنچا ہے، مجھے آپ سے توقع نہیں تھی تو ان دونوں صورتوں میں وہ اپنے فرض کو صحیح ادا نہیں کر سکا اور اس نے ایک فتنے کا خطرہ مول لے لیا اور چونکہ امیر نے بھی تقویٰ سے کام نہیں لیا اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا واضح ارشاد تھا اس کی واضح خلاف ورزی کی اس کے نتیجے