خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 693

خطبات طاہر جلد ۱۰ 693 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء بات کی عادت ڈالے کہ سب سے زیادہ تنقید اپنے نفس پر کیا کرے اور سب سے زیادہ تنقید اپنے دل کی گہرائی سے اٹھنے والے خیالات پر کیا کرے۔پہچان تو لیا کرے کہ وہ ہیں کیا ؟ بعد میں ان سے بیچ سکے نہ بچ سکے یہ ثانوی معاملہ ہے۔اگر بعد میں ان سے نہ بھی بیچ سکے تو اس کا کم نقصان دوسروں کو پہنچے گا اگر وہ پہچانتا ہو کہ یہ ہے کیا چیز ، یہ چیز کیا تھی اور یہ جو بات میں بیان کر رہا ہوں میرے سامنے بہت سے ایسے معاملات ہیں ان پر میں چسپاں کر کے آپ کو بتارہا ہوں یہ بالکل حقیقت ہے کہ ایک ایسا شخص جو اپنے نفس کی کمزوریوں سے آگاہ ہوا گر وہ کمزوریوں سے بعض کمزوریوں سے نہ بھی بیچ سکے اس کا جماعتوں کو نقصان نہیں ہوا کرتا الا ماشاء اللہ۔سوائے اس کے کہ وہ شریر النفس ہو۔اس کی ذات کو نقصان پہنچتا ہے اور کیونکہ وہ بچنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ بسا اوقات اس کو معاف بھی فرما دیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس کی اصلاح بھی فرما دیتا ہے لیکن جو شخص واقف ہی نہیں ہے کہ میرے دل میں یہ بات کیوں اٹھی اور یہ اقدام میں نے کیوں کیا وہ بعض دفعہ اپنی ہلاکت کا بھی موجب بن جاتا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب بھی بن جاتا ہے۔اب یہ چھوٹی سی مثال ہے بظاہر کتنی معصوم سی بات ہے کہ ایک شخص نے ایک احمدی کی دینی بے غیرتی کا علم پا کر امیر سے اس کے متعلق بات کی اور شکوہ کیا اور دونوں اس بات میں شریک ہو کر خاموش ہو گئے۔اب وہ کیوں ایسا ہوا؟ اصل بات یہ ہے اگر وہ اپنے دلوں کو ٹول کر دیکھیں تو ان دونوں نے کچھ نہ کچھ اطف اس بات کا اٹھایا کہ وہ تو کمزور ہے لیکن ہم نہیں ہیں، وہ دینی لحاظ سے بے غیرت ہے لیکن ہم نہیں ہیں۔ہم اس چیز کو نفرت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور بتانے والے نے بھی اگر اس نیت سے بتایا ہوتا کہ اس کی اصلاح ہو تو ساتھ درخواست کرنی چاہئے تھی کہ امیر صاحب میری آپ سے درخواست ہے کہ حکمت کے ساتھ ، معاملہ نہی کے ساتھ اس شخص کی اصلاح فرما ئیں لیکن یہ نہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے نفس کا چسکا پورا کیا ہے اور اپنے دل میں مطمئن ہو گیا کہ الحمدللہ میں نے اپنی اعلیٰ غیرت کا اظہار کر دیا۔اب ایسا شخص عام دنیا کے حالات میں متقی بھی ہو سکتا ہے اور ہوتے ہیں اور قربانیوں کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوتے ہیں۔صاف گو سچائی پر قائم لیکن یہ بہت سی بار یک راہیں ہیں جن را ہوں کے اوپر پوری روشنی نہیں پڑ رہی ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی کہ ربنا