خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد ۱۰ 692 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء یہ شکایت ہے۔چنانچہ میں پوری احتیاط کے ساتھ پرائیویٹ سیکرٹری کو سمجھاتا ہوں کہ یہ کلے تم نے نہیں لکھنے یہ اس کے دل کی تلخی ہے اور اگر یہ کلے ہم اس تک پہنچائیں گے جس شخص کے متعلق اس نے بات کی ہے تو وہ فتنہ شروع ہو جائے گا جس سے روکنے کے لئے قرآن کریم نے غیبت سے رکنے کی تعلیم دی ہے لیکن انصاف کے تقاضے کی حد تک جو شکایات کی روح ہے، جو شکایات کا حقیقی مضمون ہے وہ اس شخص تک پہنچانا ضروری ہے جس کے خلاف یکطرفہ شکایت کی گئی ہے ورنہ یہ بھی غیبت بن جائے گی۔پس یہ دو انتہا ئیں ہیں جن کے درمیان قائم رہ کر قدم اٹھانا ہی پل صراط پر سے کامیابی سے گزرنا ہے۔جہاں ان باتوں سے لاعلمی کی وجہ سے یا تقوی کی کمی کی وجہ سے لوگ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی ٹھوکریں کھا جاتے ہیں وہاں ان سے بعض دفعہ جماعت میں بہت بڑے بڑے فتنے پیدا ہو جاتے ہیں۔اب میں آپ کو اس مثال کو مزید واضح کر کے بتاتا ہوں۔ایک شخص ہے جس نے جماعت کے معاملے میں غیرت کا اظہار نہیں کیا۔ایک شخص ایک غیر ہے مثال کے طور پر ایک مجلس میں وہ سلسلے کے متعلق بیہودہ باتیں کرتا ہے، ایک احمدی وہاں بیٹھا ہوا ہے ایک اور غیر احمدی بھی بیٹھا ہوا ہے۔ایک غیر احمدی اٹھ کر سلسلے کا دفاع کرتا ہے لیکن احمدی و توفیق نہیں ملتی۔یہ ایک قسم کی منافقت ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس لفظ منافقت کو استعمال کئے بغیر اگر اس شخص کی اصلاح ممکن ہو تو کیوں نہ کی جائے ، اسے کیوں نہ سمجھایا جائے؟ اس کی بجائے اگر یہ معاملہ انسان امیر تک پہنچا دے تو اس کو اس ذمہ داری کے ساتھ پہنچانا چاہئے کہ میں اس نیت سے اس وجہ سے آپ کو بتا رہا ہوں اس معاملے میں اقدام کریں اور اس سے پوچھیں یا اس کو سمجھا ئیں تو یہ بھی غیبت نہیں ہے۔یہ ایک فرض ہے جو پورا کرنا ضروری تھا لیکن اگر امیر وہاں ہاں میں ہاں ملا کر بیٹھ جائے اور دونوں اپنی طرف سے یہ فتویٰ صادر کر کے مطمئن ہو جائیں کہ ہاں یہ منافقت ہے تو یہ غیبت بن جائے گی اور اس غیبت میں دونوں شریک ہوں گے۔امیر بھی شریک ہوگا اور پہنچانے والا بھی شریک ہو گا۔یہ ایک بہت تکلیف دہ چیز ہے جو آئندہ خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کہنے والے کی نیت کیا تھی اور یہاں وہ نیتوں کا گہرا مضمون ہے جس کے متعلق میں روشنی ڈال رہا ہوں کہ نیتوں کی جڑیں بعض دفعہ اتنی گہری ہوتی ہیں کہ انسان خود واقف نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ بڑی مشقت اور محنت سے اس