خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 691 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 691

خطبات طاہر جلد ۱۰ 691 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء ہے جو بیوی سے ناراض ہے، رشتے داروں کے جھگڑے ہیں تو میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ جہاں تک تکلیف کے اظہار کا تعلق ہے اور دعا کے لئے تحریک کرنے کا تعلق ہے میرا دل کھلا ہے تم مجھ سے اپنے سب آزار بیان کرو لیکن میاں بیوی کے اور رشتے داروں کے ایسے اختلافات جو شرعی تنازعہ بن سکتے ہیں ان کے متعلق میں تمہیں اجازت نہیں دوں گا کہ کوئی بات کرو کیونکہ آخری صورت میں ان کا تنازعات کی اپیل مجھ تک پہنچتی ہے اصولاً اور میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں ایسے تنازعے میں یکطرفہ باتیں سن لوں جن کا یکطرفہ اثر میرے دل پر قائم ہو جائے اور بعد میں اس بات کا احتمال موجود ہو کہ کسی وقت میں فیصلے کی کرسی پر بیٹھا ہوں اور وہی باتیں مجھ تک پہنچ رہی ہوں۔ان پرانے اثرات کو مٹانا پھر آسان نہیں ہوتا اور اگر میں یہ باتیں سنوں اور دوسرے فریق کو پھر موقع دوں تو میری ساری عمر انہی جھگڑوں کو طے کرنے میں گزر جائے گی یعنی خلافت کا کام ہی اور کوئی نہیں رہا سوائے اس کے کہ ساس کی باتیں سنے اور پھر بہو سے گفتگو کرے اور پھر بہو کے جوابات سنے اور ساس تک پہنچائے یا اختلاف کرنے والے میاں بیوی کے درمیان ایک Go Between بنا ر ہے یعنی ادھر سے ادھر بیڈ منٹن کی چڑیا کی طرح۔یہ تو خلافت کا کام نہیں ہے۔بعض لوگ احتجاج کرتے رہتے ہیں لیکن میں بھی جواباً ان کو کہتا رہتا ہوں کہ نہیں بس میں نے نہیں سنی۔دعا کی حد تک کہو اس سے آگے نہ بڑھو۔یہی طریق تمام امراء کو اختیار کرنا چاہئے جن کے پاس قضاء کے آخری جھگڑے پہنچنے والے ہوں۔اگر ان کے پاس وقت ہے اور وہ معاملہ سلجھانے کی خاطر نہ کہ قضاء کے نمائندے کی حیثیت سے وہ ایک فریق کی بات سننا چاہتے ہیں تو اگر انہوں نے دوسرے فریق کو بعینہ موقع نہ دیا تو یہ نا انصافی ہوگی۔پھر چغلی میں شریک ہونے والی بات ہوگی اور دوسرے فریق کو بات پہنچانا یہ چغلی نہیں ہے۔یہ معاملہ ہے جو میں وضاحت سے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جن لفظوں میں کسی نے شکایت کی ہے انہی لفظوں میں وہ بات پہنچائی جائے۔صرف یہی ایک صورت نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ جماعتی شکایات بھی مجھے بعض امراء کے خلاف بڑے بڑے سخت لفظوں میں ملتی ہیں۔بعض عہدیداران دوسرے عہد یداران کے خلاف بڑے بڑے سخت لفظوں میں لکھ دیتے ہیں اور بعض دفعہ یہ بھی مناسب نہیں ہوتا کہ اس شخص کا نام بھی لکھا جائے لیکن جس کے خلاف شکایت ہے اس کا حق ہو گیا مجھ پر کہ میں اس کو بتاؤں کہ تمہارے خلاف