خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 688 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 688

خطبات طاہر جلد ۱۰ 688 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے عام زبانوں کا چسکا ہے یا کانوں کا چسکا ہے جو مردوں ،عورتوں میں ہر جگہ پایا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ساری دنیا کی سب قوموں میں عام ہے۔مشرق میں بھی ہے اور مغرب میں بھی سب میں یہ بات پائی جاتی ہے۔قرآن کریم نے کیوں اس پر اتنی سختی فرمائی۔یہاں تک فرمایا جو غیبت کرتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔بہت ہی مکر وہ مثال ہے یعنی مکروہ ان معنوں میں کہ اس کے فعل کی کراہت کو بہت کھول کر بیان فرمایا گیا ہے۔مردہ بھائی کا گوشت کھانا ، اول تو بھائی کا گوشت کھانا بہت ہی خوفناک بات ہے پھر مردے کا گوشت کھانا۔یہ مثال کیوں دی گئی اس میں کئی حکمتیں ہیں؟ ایک حکمت تو ظاہر ہے کہ وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا۔دوسرے اگر دفاع نہ بھی کر سکتا ہو تو یہ حرکت بہت مکروہ ہے اور کسی کا گوشت کھانے والی بات ہے۔تیسرے کسی کی بوٹی نوچی جائے تو اس کا نقصان پہنچتا ہے، اس کا خون بھی کم ہوتا ہے ،اس کا گوشت کا ٹکڑا بھی اس کے جسم سے اترتا ہے اور اگر کسی کو علم نہ ہو کہ میرے ساتھ یہ کیا جا رہا ہے تو اس کو یکطرفہ نقصان پہنچتا رہتا ہے اور عملی دنیا میں غیبت یہی سب کام کرتی ہے۔اس سلسلے میں اگر مزید غور کیا جائے تو غیبت کی ایک تعریف بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ایک ایسی تعریف جس پر عموماً لوگوں کی نگاہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کوئی ایسی بات کرے جس کے نتیجے میں سننے والے لوگوں کے اندر کسی اور شخص کا یکطرفہ طور پر احترام کم ہو جائے اور نیت یہ ہو کہ اس کو نقصان پہنچانا ہے لیکن اگر بغیر نیت کے بھی ایسا فعل کیا جائے اور نقصان پہنچ جائے تو وہ بھی غیبت ہے۔جہاں تک نیتوں کا معاملہ ہے یہ للہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ نیت کیا تھی کیونکہ انسان نیت پر نظر نہیں رکھ سکتا اس لئے اگر چہ اعلیٰ تعریف غیبت کی یہی ہے کہ کوئی انسان اس نیت سے کسی کے غیو بیت میں اس کی غیر حاضری میں، اس کا ایسا ذ کر کرے جس کے نتیجے میں سننے والوں کے دلوں میں اس کا احترام کم ہو جائے اور اس کو موقع نہ ہود فاع کا۔اس کو نقصان پہنچ جائے لیکن اس کوعلم نہ ہو کہ مجھے نقصان پہنچ گیا ہے یہ غیبت ہے۔اسی لئے ایک موقع پر جب آنحضرت ﷺ نے کسی شخص کی غیر حاضری میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایسی بات کی جو اس کے متعلق اس کی کمزوری سے متعلق ایک امر واقعہ کا بیان تھا تو اس حکمت کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں محدثین مشکل میں پڑ گئے۔وہ حیران تھے کہ رسول اکرم ﷺ نے نعوذ باللہ غیبت کر دی اور اس کی بڑی بڑی تشر یکیں کرنے لگے حالانکہ امر واقعہ