خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد ۱۰ 65 59 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء پلانٹ پر کیا گیا تھا اور اس کے بعد آئندہ مظالم کی نہایت خوفناک داغ بیل ڈالی جاتی ہے۔یہ وہ باتیں ہیں جن کے نتیجے میں مسلمانوں کے جذبات زیادہ سے زیادہ مجروح ہوتے چلے جارہے ہیں اور مسلے جارہے ہیں اور جب وہ ان جذبات کا اظہار کریں تو تو میں ان کو مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ آج فیصلہ کرو کہ تم اسلام کے وفادار ہو گے یا ہمارے وطن کے وفادار رہو گے یہ کونسا انصاف ہے۔حقائق کے اظہار پر وطنیت کا سوال اٹھانا ہی ظلم ہے۔اگر یہ باتیں جو سچی اور حقیقتیں ہیں ان کا مسلمان اظہار کرتا ہے تو اس کو حق حاصل ہے لیکن جو بھیا نک بات ظاہر ہو چکی ہے اس سے زیادہ بھیا نک باتیں ابھی ظاہر ہونے والی ہیں۔اسرائیل کے ساتھ کچھ مخفی گفت و شنید امریکہ نے کی اور اپنے ایک بہت ہی اہم افسر کو، اپنے مرکزی حکومت کے نمائندہ کو ان کے پاس بھجوایا اور باتوں کے علاوہ جو مخفی تھیں اور کچھ عرصے تک مخفی رہیں گی جب تک وہ عملی طور پر دنیا کے سامنے ظاہر نہ ہوں ، ایک یہ بھی تھی کہ اسرائیل کو چھ بلین سے زیادہ ڈالر دیئے گئے اس لئے نہیں کہ تم جوابی انتقامی کارروائی نہ کرو بلکہ اس لئے کہ سر دست نہ کرو اور بعد میں کر لینا جب ہم مار کر فارغ ہو جائیں تو جو کچھ بچے گا اس پر تم اپنا بدلہ اتار لینا۔بعض دفعہ پرانے زمانوں میں رواج تھا کہ اگر کوئی ظالم مرجاتا تھا یا کوئی شخص کسی مرے ہوئے کو ظالم سمجھتا تھا اور انتقام لینا چاہتا تھا تو اس کی لاش اُکھیڑ کر اسے پھانسی لگا دیا جاتا تھا تو عملاً جو معاہدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ لاش بنانے تک ہمیں موقعہ دو۔ہم تمہاری یہ خدمت کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے۔جب مار بیٹھیں گے تو پھر تمہارے سپر د کر دیں گے پھر اس لاش کو تم جہاں مرضی لٹکائے پھر نا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب انصاف کی باتیں ہیں؟ کیا یہ انسانیت کی باتیں ہیں؟ لیکن ایک اور بات جود نیا کی نظر میں نہیں آ رہی وہ یہ ہے کہ عراق کی سویلین پاپولیشن Civilion Population یعنی پر امن عام آبادی پر جو خطرناک بم گرائے گئے ہیں۔یہ اس واقعہ کے بعد گرائے گئے ہیں اور زیادہ تر مغربی عراق کی آبادی اس سے متاثر ہوئی ہے اور اگر یہ ظلم تھا تو عملاً اس سے ہزاروں گنا بڑا ظلم عراق پر کیا جاچکا ہے۔اگر ایک اسرائیلی گھر گرا تھا تو عراق کے سینکڑوں گھر گرائے جاچکے ہیں۔اگر ایک اسرائیلی زخمی ہوا تھا تو ہزاروں عراقی مارے جاچکے ہیں۔وہاں سے آنے والے بتاتے ہیں کہ بعض علاقوں سے لاشوں کی بد بو کی وجہ سے گزرا نہیں جاتا۔جلے ہوئے گوشت کی بد بو بھی اٹھتی ہے اور متعفن گوشت کی