خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد ۱۰ 64 خطبہ جمعہ ۲۵ جنوری ۱۹۹۱ء ممبر جن کو ویٹو کرنے کا حق ہے اور اگر سارے عالم کی رائے بھی متفق ہو جائے تو اس ایک ملک کو یہ حق ہو کہ اس رائے کو رد کر دے تو عملاً وہ ایک ملک اس وقت دنیا بن جائے گا اور عملاً موجودہ فیصلے کے پیچھے یہی بات کارفرما ہے۔جب صدر بش تحدی کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ عراق کی کیا مجال ہے کہ تمام دنیا کی رائے سے ٹکر لے۔تو امر واقعہ یہ ہے، ہر آدمی سمجھتا ہے کہ دنیا کی رائے سے مراد امریکہ کی رائے یا صدر بش کی رائے ہے اور اس تحدی میں ایسا تکبر پایا جاتا ہے کہ اس سے طبیعتوں میں منافرت پیدا ہوتی ہے اور جب ان کے یہود کے ساتھ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر مسلمان نظر ڈالتے ہیں تو وہ سوائے اس کے کوئی اور نتیجہ نکال ہی نہیں سکتے کہ عراق نے غلطی کی یا نہیں کی۔عراق کے خلاف جو انتقامی کاروائی کی جارہی ہے یہ صرف اسرائیل کی خاطر ہے، یہ وہ ان کہی باتیں ہیں۔یہ تجزیے کے بغیر دل میں جسے ہوئے نقوش ہیں جن کے نتیجے میں مسلمان عوام یہ سمجھتے ہیں کہ درحقیقت یہ اسلام کی دشمنی کے نتیجے میں سب کچھ ہو رہا ہے۔اسرائیل کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ عراق میں جہاز بھجوا کر ان کے نیوکلیئر پلانٹ یعنی وہ کارخانہ جو ایٹم بم کی خاطر بنایا جار ہا تھا اور عام پر امن مقاصد کے لئے نہیں تھا۔کس United Nations نے یہ اختیار اسرائیل کو دیا تھا کہ یہ فیصلہ بھی کرے اور پھر اس کو مٹانے کا اقدام بھی خود کرے۔اس وقت تو دنیا میں کسی نے یہ اعلان نہیں کیا کہ عراق کو یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہے اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔یہ فیصلہ کرنا عراق کا کام ہے کہ آج کرے یا کل کرے یا پرسوں کرے مگر اس انتہائی کھلی کھلی جابرانہ بربریت کے بعد اقوام متحدہ عراق کے اس حق کو تسلیم کرتی ہے۔اگر کسی نے یہ آواز سنی ہو کم سے کم میرے کانوں نے نہیں سنی ، اگر کسی نے ایسی خبر پڑھی ہو تو کم سے کم میری آنکھوں نے نہیں پڑھی اور کسی مسلمان نے نہیں پڑھی۔پس عالم اسلام کا یہ تصور کہ موجودہ دشمنی بھی اسلام کی گہری نفرتوں پر مبنی ہے ، حقائق پر مبنی تصور ہے، یہ کھلی کھلی دشمنیاں اور کھلی کھلی نا انصافیاں دنیا کو معلوم ہیں ، ان کی نظر میں آتی ہیں اور بھول جاتے ہیں لیکن تاثر قائم رہ جاتا ہے اور وہ تأثر سچا ہوتا ہے۔پھر عجیب بات ہے کہ جب عراق اسرائیل پر حملہ کرتا ہے اور راکٹس برساتا ہے اور ان کی شہری آبادیوں میں سے کچھ حصہ منہدم ہوتا ہے تو ساری دنیا اس پر شور مچادیتی ہے۔فلسطین یاد نہیں رہتا، اسرائیل کا وہ فضائی حملہ یاد نہیں رہتا جو ایٹمی