خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد ۱۰ 685 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء میں دوستوں سے تعلقات کا معاملہ ہے یا خاندان میں رشتہ داروں کے رشتہ داروں سے معاملات کا تعلق ہے یہ بھی ان چیزوں سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ان کے متعلق میں بارہا خطبات دے چکا ہوں لیکن ان سے بہت زیادہ اہمیت یہ باتیں اس وقت اختیار کر جاتی ہیں جبکہ جماعت کے عہد یداران ان باتوں میں ملوث ہو جائیں کیونکہ پھر یہ ان کے نفس کی برائی نہیں رہتی بلکہ پوری جماعت کو ایک خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔میں نے پہلے بھی بارہا اس طرف جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ ایک انسان کے ذاتی گناہ ہیں وہ چاہے کسی مقام پر ہو اگر وہ دیانتداری سے کوشش کر رہا ہے، دعا کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے حالات پر پردہ ڈالے ہوئے ہے تو کسی دوسرے کو حق نہیں نہ نظام جماعت کو نہ کسی فرد کو کہ وہ کر بیدے اور تجسس کرے اور کوشش کرے کہ اس کی چھپی ہوئی بدیاں باہر نکل آئیں اور پھر وہ اس کو طعنہ دے سکے کہ تم یہ ہواور یہ کرتے ہو لیکن جہاں وہ بدیاں باہر آجائیں وہاں نظام جماعت کو اختیار نہیں ہے کہ ان سے آنکھیں بند کرے کیونکہ اب یہ معاملہ اس کا اور خدا کا نہیں رہا نظام جماعت کا بن گیا ہے۔خدا مالک ہے، وہ بخشش چاہے تو ہر گناہ کو بخش سکتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کی بخشش کا ہاتھ روک سکے مگر نظام جماعت غلام ہے اور ایک ادنیٰ غلام ہے اس مالک کا جس نے نظام جماعت کو بعض اختیارات دیئے ہیں اور بعض اختیارات نہیں دیئے۔وہاں بخشش اور رحم وکرم کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔وہاں تقویٰ اور انصاف کے ساتھ اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے وہ کارروائی کرنے کا سوال اٹھتا ہے جو قرآن کریم اور سنت اس سے تقاضا کرتی ہے۔بعض دفعہ میں نے بعض معاملات میں جماعت کے عہدیداران کو پکڑا یا بعض افراد جماعت کو تو انہوں نے ہمیشہ مجھے کہا کہ آپ تو بخشش کی تعلیم دیتے ہیں، آپ تو کہتے ہیں خدا اتنا مہربان ہے، خدا ایسا ہے جو تمام عمر کے گناہوں میں ملوث انسان کو جس کے متعلق دنیا فتویٰ دے دے کہ یہ کبھی معاف نہیں ہوگا اس کو بھی معاف کر سکتا ہے اور آپ ہماری چھوٹی سی غفلت کو معاف نہیں کرتے۔اس کے جواب میں میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ میں نے یہ جو صفات بیان کی تھیں اپنی نہیں بلکہ خدا کی بیان کی تھیں اور بحیثیت مالک خدا کو یہ اختیار ہے۔جو جو اختیار خدا نے مجھے دیئے ہیں بحیثیت مالک ان میں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائے کہ میں خدا کی صفات کا نمونہ بنوں اور ان کے مطابق جہاں تک مجھ سے ممکن ہے بخشش سے کام لوں لیکن جہاں خدا تعالیٰ کی بخشش اپنی جگہ مگر