خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 684
خطبات طاہر جلد ۱۰ 684 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء مختلف جہتوں سے کھول کر آپ کے سامنے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔اس سے پہلے بارہا گزشتہ چند سال میں مجھے بعض ملکوں سے ان معاملات میں فتنوں کی بُو آئی جس طرح جلنے کی بُو آئی تھی۔خدا کے فضل سے میری قوت شامہ بھی تیز ہے اور اندرونی حس جس سے فتنوں کی بُو آجاتی ہے وہ بھی بہت تیز ہے۔چنانچہ جب میں نے تحقیقات کیں تو رفتہ رفتہ بہت سے فتنوں کے عوامل عمل پیرا دکھائی دیئے جو اندر اندر کام کر رہے تھے اور تحقیقات کے دوران بہت ہی افسوسناک تعجب ہوا کہ ہمارے سلسلہ کے تجربہ کار مربی اور بعض صورتوں میں بعض امراء بھی ان چیزوں میں با قاعدہ ملوث تھے۔جہاں تک ان کی وقف زندگی کا تعلق ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ بڑے خلوص اور تقویٰ کے ساتھ انہوں نے زندگی وقف کی ، جہاں تک ان کی ان نیتوں کا تعلق ہے جو انہوں نے اپنی نظر کے سامنے رکھی ہوئی تھیں تو اس کے متعلق بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ نیتیں صاف تھیں لیکن وہ نیتیں وہ تھیں جو انہوں نے عمد أخود سجا کر اپنی نظر کے سامنے رکھیں اور یہ وہ سب سے بڑا انسانی فطرت کا خطرہ ہے جو انسان کو دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے اور قرآن کریم نے جوفر مایا کہ شیطان وہاں سے حملہ کرتا ہے جہاں سے تمہیں دکھائی ہی نہیں دیتا۔تو یہ وہ حکمت ہے کلام الہی کی جسے اگر ہم سامنے رکھیں تو بعض دفعہ ایسے الجھے ہوئے معمے بھی حل ہو جاتے ہیں کہ ایک شخص متقی ہے اس سے ان باتوں کی توقع نہیں لیکن پھر بھی وہ باتیں کر رہا ہے۔ہم قرآن کریم کی پیش کردہ اس حکمت کی رو سے اس معاملے کو یوں حل کریں گے کہ وہ وہاں سے ڈسا گیا ہے جہاں سے سانپ اس کو دکھائی ہی نہیں دیا تھا۔حملہ اس پر ایسی جگہ سے ہوا ہے جہاں اس کی نظر نہیں تھی لیکن صرف یہ کہنا اس کے دفاع میں کافی نہیں کیونکہ قرآن کریم دوسری جگہ اس مضمون کو یوں بیان کرتا ہے کہ انسان اپنے نفس کے حالات کو سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔وہ اگر کوشش کرے تو یقیناً جان سکتا ہے کہ اس کے نفس کے پردوں کے پیچھے کیا کیا فتنے چھے بیٹھے ہیں۔وَلَوْ اَلْقَی مَعَاذِيرَة (القیامہ: ۱۶) خواہ وہ بعد میں بے شمار عذر بھی پیش کرے اور کوشش کرے یہ ثابت کرنے کی کہ جو کچھ اس نے کیا تھا اس کا جواز موجود تھا۔پس ایک پہلو سے ہمیں یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ انسان بعض دفعہ عمد أبالا رادہ یعنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فتنے کو قبول نہیں کرتا لیکن اس کی فطرت ان فتنوں پر پردے ڈالتی ہے اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کر وہ اپنی دانست میں بڑی نیکی کی باتیں کر رہا ہوتا ہے۔جہاں تک روز مرہ کی زندگی