خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 680 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 680

خطبات طاہر جلد ۱۰ 680 خطبہ جمعہ ۶اراگست ۱۹۹۱ء زمین و آسمان کا فرق ہے۔پس وہ لوگ جو اپنی بدیوں کو اور بد نیتوں کو چھپاتے ہیں وہ عادتا انہیں اپنے آپ سے بھی چھپانے لگ جاتے ہیں۔ان کو سمجھانے کی خاطر میں یہ مثال ان کے سامنے رکھتا ہوں کہ بعض دفعہ اگر جڑوں کی بیماریاں ہوں تو سارے درخت کی جڑیں تو یکدم نگی نہیں کی جاتیں مگر اچھا سمجھدار زمیندار کھود کر پہلے ایک ایک جڑنگی کرتا ہے، اس کا علاج کرتا ہے اور اس کے بعد اس کو ڈھانپتا ہے یعنی چھپانے کی بجائے خود کھودتا ہے اور اپنے درخت کی جڑوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ان کی بیماریوں کو پہچانتا ہے اور پھر گندی مٹی کو اس سے ہٹا دیتا ہے اور پھر پاک مٹی سے اس جڑ کو ڈھانپ دیتا ہے، پھر دوسری جڑ کی باری آتی ہے پھر تیسری جڑ کی باری آتی ہے۔وہ لوگ جو باغوں کے ماہر ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس عمل کے نتیجے میں بسا اوقات نہایت خطر ناک بیماریوں میں مبتلا پودا بھی صحت مند ہو جاتا ہے۔تو ایک دفعہ نگا کرنا ضروری ہے اس کے بعد پھر حقیقی استغفار نصیب ہوگا اور نیتوں کی جڑوں کا علاج تو بہ سے ہوتا ہے، تو بہ اور استغفار، پہلے تو بہ ہے اور پھر استغفار ہے تو بہ کے بغیر استغفار کی کوئی حقیقت نہیں۔تو جس مضمون کو تو بہ کہا جاتا ہے اس کا نقشہ یہ ہے کہ آپ اپنی جڑوں کو باری باری ایک ایک کر کے نگا کریں۔لوگوں کے سامنے نہیں بلکہ اپنے سامنے آپ کے اندر اپنے حالات کے متعلق جو روشنی پیدا ہوگی وہی روشنی ہے جو بعد میں نور بن جایا کرتی ہے اور یہ روشنی ضروری ہے اس کے بغیر نور نہیں بن سکتا۔ہم جنس چیز سے اسی جنس کی چیز بنتی ہے خواہ ان کے اخلاق میں زمین و آسمان کا فرق ہو۔نور کے لئے ایک نور کی ضرورت ہے اور اندر کی روشنی وہ پہلا نور ہے جو سچائی کے ساتھ آپ کو اپنے حالات سے آگاہ کرے۔ہر سفر اختیار کرنے سے پہلے، ہر حرکت سے پہلے ، ہر قدم اٹھانے سے پہلے عادت ڈالیں کہ اپنی نیت کا جائزہ لے لیں اس کو اچھی طرح کھنگال کر دیکھیں۔معلوم کر لیں کہ اصل کیا ہے اس کے بعد نہ آپ اپنے نفس کو دھوکا دے سکتے ہیں نہ کسی اور کو دھوکا دینے کے لئے رجحان پیدا ہوگا کیونکہ یہ ایک ایسی کوشش ہے جس کے نتیجے میں سچائی سے پہلے سے زیادہ وابستگی ہو جاتی ہے۔جو شخص اپنے دل کے چھپے ہوئے حالات کو اپنے اوپر کھولتا ہے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بدیوں کو دیکھ لیتا ہے اس کے اندر تقویٰ کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔اس کے اندر ایک ایسی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کے دل کی روشنی