خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 676
خطبات طاہر جلد ۱۰ 676 خطبہ جمعہ ۶ ۱اراگست ۱۹۹۱ء شرم کے مارے یہ بھی نہ کہہ سکے کہ فونوں کے بل ہی بہت بڑھ گئے ہیں اگر فون کرنا ہے تو خدا کے واسطے باہر جا کر کریں۔وہ حیاء دار لوگ جو خدمت دین کی خاطر اتنی قربانی کرتے ہیں ان پر ایک اور مصیبت اور ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔پس جو آنے والے ہیں ان کو حیاء چاہئے لیکن جو ٹھہرانے والے ہیں وہ کم سے کم اس بات کے مجاز ہیں بلکہ میں ان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ یہ بات میری طرف منسوب کر کے کہیں گے کہ اگر آپ نے تجارتیں کرنی ہیں تو ہمارا گھر آپ کے لئے بند ہے اپنا سامان اٹھائیں ، ہوٹلوں میں جائیں آپ کو کون تجارتوں سے روکتا ہے مگر تجارتوں کے جو طریقے ہیں ان کو اپنا ئیں۔فرضی تجارتی خرچ ڈال ڈال کر قیمتیں تو بڑھالیتے ہیں کہ پاکستان سے کپڑا آئے تو اتنا اس پر کرایہ لگے گا۔اتنا آنے والے کا کرایہ ہو گا اتنا اس پر ٹیکس لگنا چاہئے جن میں سے کچھ بھی نہیں لگا ہوا ہوتا ، آنے والے بعض دفعہ جلسے کے دوسرے مہمانوں پر بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ایک گھڑی اس کو پکڑا دی اور ایک گھڑی اس کو پکڑا دی اور رستے ایسے ایسے ڈھونڈتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔میں کینیڈا گیا تو وہاں جلسہ کے بعد میں تو فارغ ہو گیا لیکن میری بیگم نے چونکہ دل کا علاج کروانا تھا یہ امریکہ چلی گئیں اور امریکہ میں قیام کے دوران ان کو ایک ہومیو پیتھی دوائی کی سخت ضرورت پڑی اور میں سمجھا کہ یہ ایلو پیتھی علاج کے بس کی بات نہیں ، اس لئے یہ دوا ضرور ملنی چاہئے تو میں نے ان کو بتایا کہ میری کچھ دوائیں کینیڈا میں پڑی ہوئی ہیں وہاں سے منگوالیں۔ایک عزیز آنے والے تھے ان کے سپر دانہوں نے یہ کام کر دیا۔اس وقت مجھے پتہ لگا کہ یہ کپڑے بیچنے والے کیسے کیسے رستے اختیار کرتے ہیں۔اس بے چارے کی کار میں ایک گھڑی کپڑوں کی ڈال دی گئی اور دوا پہنچ نہیں رہی تھی ، دیر ہورہی تھی میں نے فون کر کے پتہ کیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے تو پتہ چلا کہ کسی نے کپڑے بھیجے تھے وہ اس بیچارے کی کار میں ڈال دیئے گئے اور اب کٹم والے اس کو نہیں چھوڑ رہے تھے کیونکہ اس بے چارے نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ میرے پاس کوئی تجارتی چیز نہیں۔اس نے تو جھوٹ نہیں بولا لیکن واقعہ وہ جھوٹ تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ تجارتی چیز نہیں تو یہ ایک ہی طرز کے نئے سلے ہوئے خاص قسم کے اتنے کپڑے کیوں لے کر جارہے ہو۔اس نے کہا یہ تو مجھے کسی نے سپرد کئے تھے چنانچہ چند گھنٹے اس کو قید میں رکھا اور اور باتوں کی تحقیق ہوئی تو شک پڑ گیا اور ہومیو پیتھی کی دواؤں کو پر یہ نہیں انہوں نے کس کس طرح آزمایا کہ اس میں کوئی Drug تو شامل نہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ کس حد تک اثر باقی رہایا