خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 674
خطبات طاہر جلد ۱۰ 674 خطبہ جمعہ ۶ اراگست ۱۹۹۱ء بہت سی خواتین ہیں جو اس وقت کہ رش کم ہوتا ہے وقت نکال کر وہاں جا کر سودے کر رہی ہوتی ہیں۔میں نے پھر مزید اس بات کی چھان بین کی تو پتہ لگا کہ بے انتہاء منافع بازی ہوتی ہے اتنی کہ ہوش اڑانے والی۔اب یہ یہاں کی خواتین پر بڑا ظلم ہے ، لجنہ یو کے (U۔K) پر اور انفرادی طور پر لجنہ کی ممبرات پر بھی بے حد ظلم ہے کہ وہ بیچاریاں تو دین خدا کی خاطر قربانیاں کریں اور اپنے بھی کام کریں بچوں کے بھی کام کریں، کھانے پکائیں، برتن دھوئیں اور چھوٹے چھوٹے گھروں میں اس خاطر آپ کی مہمان نوازیاں کریں کہ آپ خدا کے مہمان ہیں اور کچھ دنوں کے بعد پتہ لگے کہ خدا کے مہمان نہیں تھے۔یہ تو اپنے پیٹ کے مہمان ہیں اور گٹھریاں اٹھائے پھرنے والی تاجرات ہیں اور جب میں نے مزید تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اچھے بھلے کھاتے پیتے گھروں سے ان کا تعلق ہے۔بہت امیر گھروں سے کہ جن کو ہرگز اس قسم کی مصیبت کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے۔چنانچہ ابھی حال ہی میں ایک واقعہ ہوا ہے جس سے مجھے بڑی سخت تکلیف پہنچی ہے اور اسی وجہ سے اب میں لجنہ اماء اللہ انگلستان کے لئے خصوصیت کے ساتھ ایک اعلان کرنا چاہتا ہوں۔ایک خاتوں ہیں جو دل کی مریضہ ہیں ، ان کے میاں مریض ہیں ان کے پاکستان کے کسی خاندان سے تعلقات تھے ، ان تعلقات کے خاطر وہ اپنے گھر میں ان کی اولاد کو بھی رکھتے ہیں لیکن مجھے کسی نے بتایا کہ چونکہ میں نے لجنہ کو منع کر دیا کہ نہ جلسہ پر کوئی کپڑا بکے گا ، نہ تمہاری تقریبات پر کوئی کپڑا بکے گا جو چاہے آپ پر دباؤ ڈالے آپ نے ہر گز کسی کی بات نہیں ماننی اور صاف کہہ دیں کہ ہمیں حکم ہے کہ ہم نے یہ کام نہیں ہونے دینا اور اگر آپ کو ڈر ہے کہ ان کو تکلیف پہنچے گی تو آپ ان کو خط لکھیں۔جن جن سے تلخ تجربات ہو چکے ہیں ان سب کو خطوط کے ذریعے پہلے متنبہ کریں کہ خدا کے لئے اس دفعہ کپڑے لے کر نہ آنا کیونکہ ہم اجازت نہیں دیں گے۔اس کے باوجود وہی لوگ لائے جو پہلے بھی لاتے تھے اور جس گھر میں ٹھہرے ہیں اس گھر کے متعلق جس ذریعے سے بھی ہوسکا اشتہار دے دیا کہ آئندہ کپڑے خرید نے ہوں تو اس گھر میں تشریف لائیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بے چاری کمز ور عورت دل کی مریضہ اور کئی قسم کے امراض میں مبتلا ، ایک نہایت خطرناک آپریشن سے اعجازی طور پر شفا پانے والی مگر ابھی کمزوری باقی ہے ان کے دروازے کھٹکنے شروع ہوئے۔کنڈی کھٹکتی تھی تو اٹھ کر پوچھتی تھیں کہ جی کیا بات ہے؟ اس پر پتا چلا کہ جی آپ کے ہاں فلاں خاتون ٹھہری ہوئی ہیں،