خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد ۱۰ 664 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء کے طور پر نہیں۔پس ان سب باتوں پر غور کرتے ہوئے آپ جب تقوی کے مضمون کو اپنی روزمرہ کی زندگی پر جاری کر کے دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک سادہ سے بیان میں کتنی پر پیچ با تیں بھی بیان ہو چکی ہیں اور تان اسی بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ انما الاعمال بالنیات اور اس کی بہترین تصویر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمائی کہ ہراک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے اور جب آپ نے یہ کہا تو الہامی مصرعہ اس کے بعد یہ ہوا جو اس شعر کا دوسرا مصرعہ بن گیا کہ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس جڑ کی حفاظت کرو۔اس کی خاطر ہر دوسری چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور یقین رکھو کہ تمہیں سب کچھ پل گیا۔خدا کرے کہ ان ہی بنیادوں پر ہم اپنے آئندہ معاشرے کی تعمیر کریں اور آئندہ آنے والی نسلیں صرف سو سال نہیں ہزاروں سال تک ان نعمتوں سے حصہ پائیں اور ہماری شکر گزار رہیں اور ہمیں دعائیں دیں اور اللہ تعالیٰ اس فیض کو ہمیشہ ہمارے لئے اور ہماری اولادوں کے حق میں جاری رکھے خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔(آمین) خطبہ ثانیہ سے قبل حضور انور نے ارشادفرمایا: جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہوگا کہ جلسہ کے مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے یہاں چونکہ ظہر کے وقت بہت زیادہ لوگ باہر سے آتے تھے اور ان میں سے بہتوں کے لئے عصر تک ٹھہر ناممکن نہیں تھا اس لئے نمازیں جمع کی جاتی رہیں لیکن اب چونکہ مہمانوں کی تعداد میں کمی آچکی ہے اور دوسرے لمبے عرصہ تک ظہر وعصر کی نمازیں جمع کرنے پر دل میں ویسے بھی بوجھ پڑتا ہے کیونکہ دن لمبے ہیں اس لئے کل سے انشاء اللہ تعالیٰ ظہر وعصر کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر ادا ہوں گی۔ظہر کی نماز دو بجے اور عصر کی نماز پانچ بجے ادا ہو گی لیکن رات چونکہ ابھی نسبتاً چھوٹی ہے اور مہمانوں کو دور دور جگہوں پر واپس جانے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اور بعض دفعہ سواریاں بھی میسر نہیں آتیں اس لئے رات کے وقت مغرب و عشاء کی نمازیں سر دست کچھ عرصہ تک جمع ہوتی رہیں گی۔اور جب میں حالات کا جائزہ لے کر مناسب سمجھوں گا اس وقت دوبارہ اعلان کر دوں گا کہ وہ بھی پھر اپنے اپنے وقت پر الگ الگ ادا ہوں۔