خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 654

خطبات طاہر جلد ۱۰ 654 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء سچ کا نام خدعہ ہے یعنی ہے تو سچ مگر اس نے لباس ایسا اوڑھ لیا ہے کہ جس کے نتیجہ میں دوسرے شخص کو غلط خبر ملتی ہے اور اس میں کہنے والے کا قصور نہیں بلکہ اس کی ذہانت کو داد ملتی ہے۔ایک موقعہ پر حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے جب غزوہ کی حالت میں تھے یعنی ایک غزوہ کے لئے دشمن سے مٹھ بھیڑ کے لئے تشریف لے جارہے تھے تو رستے میں ایک ایسا شخص آپ کو ملا جو ایک ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جس کے متعلق خطرہ تھا کہ اگر وہ آپ کی منزل کا رخ بھانپ گیا تو دشمن کو مطلع کر دے گا اور اس کے نتیجہ میں جنگ میں Surprise کا جو Element ہوتا ہے یعنی تعجب کے نتیجہ میں دشمن کو زیر کرنا وہ ہاتھ سے جاتا رہے گا تو اس پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جو سب بچوں سے بڑھ کر سچ بولنے والے اور سب بچوں کے سردار تھے ، آپ نے اس شخص کو مخاطب کر کے ایک جگہ کا راستہ پوچھا اس جگہ جانا نہیں تھا۔نہ یہ فرمایا کہ ہم وہاں جانا چاہتے ہیں بلکہ انسان کسی جگہ کا راستہ پوچھ لے۔اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔اس جگہ کا راستہ پوچھا اور آگے گزر گئے ، بعد میں جب صحابہ نے پتہ کیا کہ یہ کیا بات تھی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو ایک جگہ کا راستہ پوچھا ہے اب اسکا اندازہ ہے وہ چاہے تو یہ اندازہ لگالے والے کہ ہم ادھر جانا چاہتے ہیں اور پھرفتنہ پیدا کرنے کی خاطر دشمن کو بے شک اس کی اطلاع کر دے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں تو ذھانت بعض دفعہ سچائی پر ایک لباس اور اوڑھا دیتی ہے اور جنگ کے دوران یہ نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے اور اسے خدعه کہا جاتا ہے مگر بیاہ شادی کے عام تعلقات میں خدا تعالیٰ اس کو بھی پسند نہیں فرما تا بلکہ سختی سے اس سے منع فرماتا ہے اور یہ وہ آیت ہے جس نے اس موضوع کو آپ کے سامنے کھول کر رکھا کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا اے مومنو! تم بیاہ شادی کے لیے ایک دوسرے کی طرف روانہ ہورہے ہو ، رشتے ڈھونڈ رہے ہو، رشتے طے کر رہے ہو، ایک بات یادرکھنا کہ سیدھی بات ( سچی بات نہیں سیدھی بات ) کرنا سیدھی بات جو دل سے اٹھی ہے اور دل تک پہنچے ، اس میں کوئی خم نہ ہو ، کوئی فریب نہ ہو، دل کی بات ہے وہ بعینہ ویسی بیان کر دو۔جس قسم کی تمہاری لڑکی ہے اسی قسم کی لڑکی بیان کرو تا کہ دیکھنے والے کو کسی قسم کا دھوکا نہ لگے کہ اس لڑکی میں ایک یہ بھی نقص رہ گیا تھا جو ہمارے سامنے پیش نہیں کیا گیا ، یہی حال لڑکوں کا ہوتا ہے۔اس ضمن میں نیتوں کے فتور کا ایک اور بھی تماشہ ہے جوا کثر دیکھنے میں آتا ہے۔دونوں