خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد ۱۰ 650 خطبه جمعه ۹/اگست ۱۹۹۱ء پوچھنا تھا۔رشتے کے انتظار میں اتنی دیر سے بیٹھے ہوئے تھے۔اس لئے ان ساری باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ بیٹی ہی نہیں بلکہ بیٹی کا سارا خاندان بیٹے والے کے خاندان کے سامنے جھک جائے اور اس کے ساتھ پھر دماغ میں مزید مطالبے بھی آجاتے ہیں۔بعض مائیں کہتی ہیں کہ ہمارا بیٹا ہے، ماشاء اللہ اچھا تعلیم یافتہ ہے، ڈاکٹر ہے، اس کو ایسی بیٹی ملنی چاہئے جو اس کی ڈاکٹری تعلیم کا کچھ مزید انتظام کرے۔یورپ کے سفر کا انتظام کرے۔امریکہ کے سفر کا انتظام کرے اور خواہ اس کے ماں باپ اپنی جائیداد بیچیں ، اپنے زیور بیچیں اپنے داماد کے مستقبل کو روشن تر کرنے کے لئے وہ اپنے گھروں کے دیے بجھا دیں لیکن ان کا فرض ہے کہ وہ ایسا ضرور کریں پھر بعض ساسیں یہ تصور جمائے رکھتی ہیں کہ ان کی بہو ایسی آئے جو دولت سے گھر بھر دے۔ایک کار بھی لے کر آئے ، فریج بھی لے کر آئے ، جوڑے لائے ، اپنی ساس کے لئے بھی ، اپنی نندوں کے لئے بھی ، ان کے رشتہ داروں کے لئے بھی اور ہم کسی کو بتا تو سکیں کہ کس قسم کی بہو ہمارے گھر آ رہی ہے۔اس قسم کی جاہل عورتیں ہیں جو اس دنیا میں بھی نہ صرف اپنی نسل کے لئے بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے جہنم پیدا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں اور یہی وہ جاہل عورتیں ہیں جو اپنی نسل کو خود جہنم میں جھونکتی ہیں۔وہ مائیں جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اُن کے پاؤں تلے جنت ہے وہ یہ مائیں نہیں۔یہ وہ مائیں ہیں جو ایسی بدنصیب ہیں کہ جن کے متعلق آنحضرت ﷺ نے جنت کی خوشخبری یا جنت کی تمنا کی لیکن اس کے باوجود ان کی بدبختی ان کے پاؤں تلے سے ان کی اولاد کیلئے جہنم پیدا کرنے کا موجب بن گئی اور سارے معاشرے کو دکھوں سے بھر دیا۔ایسے تصور والی عورتیں شاذ کے طور پر نہیں ملتیں بلکہ بڑی بھاری تعداد میں آج دنیا میں موجود ہیں۔پاکستان کے اخباروں میں ہندوستان کی بعض مظلوم لڑکیوں کا تو ذکر ملتا ہے جو جہیز نہ ملنے کے نتیجے میں زندہ جلا دی گئیں لیکن پاکستان میں لاکھوں کروڑوں ایسی بدنصیب لڑکیاں ہیں جو زندہ جلا نہیں دی جاتیں تو زندہ درگور کر دی جاتی ہیں۔ان کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے اور ان کے والدین کی بھی تو نیتوں سے دیکھیں کس قدر بڑے فساد واقع ہوتے ہیں اور یہ فسادات پھر آگے بہت سے فسادات پر منتج ہوتے ہیں بعض دفعہ ایسی بچیوں کی طلاقیں ہو جاتی ہیں اور پھر اُن کے بچوں کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر مقدمہ بازیاں شروع ہو جاتی ہیں ،احمدی معاشرے میں تو نہیں مگر غیر احمدی معاشرے میں قتل و غارت تک بات پہنچتی ہے اور مسلسل گھر برباد