خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد ۱۰ 647 خطبه جمعه ۹/اگست ۱۹۹۱ء قال اخبرني محمد بن ابراهيم التميى انه سبع علقمة على المنبر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول انما الاعمال بالنيات ، وانما لكل امرى مانوی ، فمن كانت هجرته الى الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها ، او امراة ينكحها فهجرته الــى مـاهـاجـر الـيـه (بخارى باب كيف كان بدء الوحى رسول الله اس کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں یعنی تمام روایت کا سلسلہ چھوڑتے ہوئے آخری راوی سے اصل مضمون کا ترجمہ بیان کر رہا ہوں، چونکہ یہ روایت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منبر پر عام خطاب میں بیان فرمائی۔پس آپ کی روایت یہ ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: سب اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔اور ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی بدلہ دیا جاتا ہے۔پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کی اور ان کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہی ہوگی لیکن جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہجرت کی تو اس کی ہجرت کی غرض اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی وہی قرار پائے گی جو اس کی اپنی نیت ہے یعنی اپنی نیت کا پھل جیسی بھی وہ نیت ہے اس کے مطابق اس کو ملے گا۔اس حدیث کا اطلاق انسان کی ساری زندگی پر ،اس کے تمام خیالات پر اور اس کے تمام اعمال پر ہوتا ہے۔بہت ہی وسیع مضمون سے تعلق رکھنے والی حدیث ہے اور انسانی نفسیات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ انسانی نفسیات کی وہ جڑ ہے جس کو اگر پکڑ لیں تو ہر انسان کی نفسیات کی الجھن اس سے حل ہو سکتی ہے اور در حقیقت Psychiatrist اسی جڑ کی تلاش میں Psychiatry سے متعلق محنت اور جد و جہد کرتے ہیں اور مختلف مریضوں سے سوالات کرتے کرتے بالآخر ان کی تلاش جڑ کی تلاش ہوتی ہے کہ یہ شخص کیسے بیمار ہوا تھا آغاز کیسے ہوا تھا، دماغ میں وہ پہلافتور کیسے پڑا تھا جس کے نتیجے میں یہ اتنی پیچیدہ بیماری لاحق ہوئی اور بیماری کے آغاز کا جو آخری نقطہ ہے وہ نیت کے آغاز کا نقطہ ہوا کرتا ہے اس سے آگے پھر سارا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔پس انسانی زندگی بہت ہی Complex زندگی ہے، بہت ہی الجھی ہوئی اور پیچیدہ زندگی