خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد ۱۰ 646 ہراک نیکی کی جڑیہ اتقاء ہے خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء اگر یہ جڑرہی سب کچھ رہا ہے (دین) میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ تقویٰ کی جڑانیوں پر ہوتی ہے اور اس پر میرا ذ ہن حضرت اقدس محمد مصطفی ملے کی اس حدیث کی طرف چلا گیا جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ انما الاعمال بالنيات۔(بخاری کتاب الایمان حدیث (۱) تمام اعمال کی بنیاد نیتوں پر ہے۔یہ در حقیقت ایک ہی مضمون ہے لیکن طرز بیان مختلف ہے، اظہار مختلف لفظوں میں ہوا ہے لیکن بعینہ ایک ہی مضمون ہے جو بیان ہو رہا ہے۔ہر انسان کے ہر عمل کی جڑ اس کی نیت میں ہوتی ہے پس اگر وہ جڑ تقویٰ ہو تو اس کے اعمال کی تمام تر عمارت خواہ وہ ثریا تک جا پہنچے وہ خدا کے حضور مقبول اور حسین ہوگی۔ایک خوبصورت اور دلکش اور پائیدار عمارت تعمیر ہوگی اور اگر نیوں کی جڑ میں نقص پیدا ہو جائے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اگر عمارت کے تصور کو چھوڑ کر جڑ کے تصور سے درخت کی مثال آپ اپنی نظر کے سامنے لائیں تو جو جڑ بیمار ہوتی ہے اس کا تنا بھی بیمار ہوتا ہے،اس کے پتے بھی بیمار ہوتے ہیں، اس کے پھل بھی بیمار ہوتے ہیں اور بیمار جڑ والے درخت کو آپ جو چاہیں کر لیں اس کا علاج ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اُسے جڑوں سے اکھیڑ پھینکا جائے یا ایسی دوا دی جائے جو جڑوں میں اتر کر جڑوں کی بیماری کا کچھ علاج کر دے۔مجھے زمیندارے میں بارہا ایسا تجربہ ہوا ہے کہ پودوں کی ، درختوں کی بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جو پتوں پر پھلوں پر ، شاخوں پر حملہ کرتی ہیں اور ان کا علاج ممکن ہے لیکن ایسا درخت جو کونپلوں سے سوکھنا شروع ہوتا ہے اور نیچے کی طرف اس کی بیماری کا عمل حرکت کرتا ہے یعنی کناروں سے شروع ہو کر نیچے کی طرف تو ایسے درخت ہمیشہ جڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور جب تک جڑ کی فکر نہ کی جائے اس درخت کا کوئی علاج ممکن نہیں۔پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے کی فرمودہ نصیحت جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ انما الاعمال عليسة بالنیات ، اس کو پیش نظر رکھ کر میں آپ سے آج کچھ خطاب کروں گا۔یہ حدیث مختلف کتب میں مروی ہے، کہیں چھوٹی ، کہیں کچھ بڑی، میں نے جو حدیث لی ہے وہ بخاری باب كيف كان بدء الوحی الى رسول الله الا اللہ سے اخذ کی ہے۔اور یہ پوری حدیث اس طرح بیان ہوئی ہے کہ حدثنا الحميدى قال حدثنا سفيان قال حدثنا يحي بن سعيد الانصاري